طریقِ_علمِ_نجاتِ_دارین 48
طاش کبری زادہ
{ متوفی 968 ھجری }
بڑی بہترین لکھائی کے ماہر تھے
اپنے ہاتھوں سے بہت سی کتب کے نسخے لکھے اپنے ایک طالب علم کو فرمانے لگے
میں نے خود پر لازم کر رکھا ہے ہر سال تفسیر بیضاوی کا نسخہ لکھنا ہے
اور پھر اسے تین ہزار دراہم کا بیچ دیتا ہوں اور ان پیسوں کو ماہِ رمضان میں طلباء ِ علمِ دین پر خرچ کر دیتا ہوں
دین سے مخلص معلم طلباء کے سامنے تکبر نہیں عاجزی کرتا ہے
الجامع فی بیان العلم میں ابن عبد البر نے حدیث پاک نقل فرمائی
تَوَاضَعُوا لِمَنْ تَتَعَلَّمُونَ مِنْهُ وَلِمَنْ تُعَلِّمُونَهُ
جس سے علم سیکھو اس کے آگے عاجزی اختیار کرو اور جسے علم سکھا رہے ہو اس کے سامنے بھی عاجزی اختیار کرو
وہ استاد جو خطاب میں تو تکار کرے کسی سیٹھ و مالدار و انتظامیہ کو تو آپ کہ کر بات کرے مگر طلباءِ علمِ دین کو تو کہ کر بات کرے وہ منافق استاد ہے
ایسے کی صحبت سے بھی بچنا چاہئے علمِ دین سیکھنا تو دور کی بات ہے
وہ جن کے پیروں کے نیچے فرشتے پر بچھاتے ہیں اگر وہ تعظیم و تکریم کے حقدار نہیں تو کون ہے ؟
✍️ #سیدمہتاب_عالم
