علماءِ سوء کا دوغلا پن

طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 47« »

موجودہ متحققین کا دو قومی نظریہ منافقت کی حد تک غلیظ ہے
ایک کام معتبر مگر گمنام عالم کرے تو درباری ملاں کہا جائے علماءِ سوء میں شمار کیا جائے
وہی کام مشہور عالم کرے تو حکمت کہلائے
غیر مشہور عالم شدت برتے تو متشدد و متعصب
مشہور کرے تو اشداء علی الکفار کا مظہر
غیر مشہور بد مذہب سے ملاقات کر لے تو قریب بہ خروجِ دائرہِ اسلام ہو جائے
مشہور کر لے تو خدمتِ اسلام کا سہرا سجائے
مشہور مگر اپنے دل کو ناپسند عالم بھی کرے تو ان متحققین کی چارپائی کے نیچے آگ لگ جاتی ہے
مگر اپنا پسندیدہ کر لے تو ہزارہا تاویلات
یاد رکھیں
علماء سوء کا درجہ منافقین کے ساتھ ہوگا
کیا آپ نے ان اولیاءِ کرام کے بارے نہیں پڑھا جن کو زیارتِ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے ہوتی تھی مگر صرف ایک بار حاکم کے پاس جانے کی نحوست سے یہ عظیم نعمت چھن گئی
ایسے کئی واقعات ہیں
امام شعرانی نے ذکر فرمائے ہیں
°°° نہ علماء ظاہر اچھا جانتے ہیں نہ علماء باطن حاکم کے پاس جانے کو اچھا سمجھتے ہیں بلکہ وہ تو گھر آئے حاکم کو لوٹا دیتے تھے °°°
فتاوی رضویہ میں ہر چھوٹے بڑے کو بد مذہب سے سلام و کلام حرام قرار دیا گیا ہے
اگر آپ سرِ راہ مل کر دشمنان رسول سے نظریں نہیں پھیر سکتے تو الحب فی اللہ و البغض للہ کا کیا مطلب ہے؟
کیا آپ نے علماء و اولیاء حتی کہ امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کے دشمنوں سے منہ پھیرنا پڑھتے پڑھاتے نہیں آئے؟
مگر جب اپنی باری آئے تو ہزار تاویلات کیساتھ اعلی اخلاق پر قائم و دائم حضرت ہیں
یہ مصلحت و حکمت نہیں منافقت ہے
ان علماءِ سوء کے اندھ بھگت مداہنت و مدارت کا فرق پڑھ لیں مزہ آ جائے گا
دین اور خدماتِ دین کی تعبیر مشہور اور من پسند شخصیات کو دیکھ کر بدلنے والے منافق طلباء و علماء ہیں
شریعتِ مطہرہ نے جن کے عیوب پر پردہ ڈالنے کا حکم دیا یعنی ساداتِ کرام ان کے عیوب تو اچھالے جاتے ہیں اپنے منظورِ نظر علماء کے عیوب بھی خوبیاں بنا دیئے جاتے ہیں
یہ دوغلا پن کیوں ہے؟
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top