تعظیم_و_تکریمِ_صحابہ_فرض_ھے 12
جب گھوڑے بیمار ہوتے تو اھل عرب ان کا علاج اسہال {موشن لگا کر} سے کرتے ہیں
چنانچہ ابن تیمیہ کہ ردِ رافضیت میں بڑا ماہر حتی کہ ناصبیت تک پہنچ گیا
{ جیسا کہ آج کل بھی نظارہ دیکھنے کو ملتا ہے جو ردِ روافض کرتا ہے عموماً اھلِ بیت کے متعلق عامیانہ پن اختیار کر لیتا ہے }
مگر ایک بات اس نے درست کہی
وہ کہتا ہے کہ اگر گھوڑے کے پیٹ میں درد ہو تو اس کا علاج اسہال سے کیا جاتا ہے
اور گھوڑے کو اسہال کی دوائی دینے کی جگہ گھوڑے کو روافض کی قبروں یا یہودیوں کی قبروں کے پاس لے جاؤ تو گھوڑوں روافض و یہود کو دیا جانے والا عذاب دیکھ کر اسہال شروع کر دیں گے
اور ان کا پیٹ صاف ہو جائے گا
کیونکہ اللہ رب العزت کے پیارے بندوں کے بارے یہ لوگ افراط و تفریط کے شکار ہیں
کچھ کو انتہائی بڑھا دیتے ہیں اور کچھ کو انتہائی کم کرتے دیتے ہیں
اسی وجہ سے یہود و روافض کو شدید عذاب دیا جاتا ہے
انسان و جنات کے سوا ہر مخلوق روحوں کے قبر کا عذاب دیکھ سکتی ہے
ابن تیمیہ کا قول مجرب عمل نہیں بلکہ ان کے عذاب کی شدت کو بیان کرنا ہے
جبکہ اھل سنت اھل اعتدال ہیں
بے عتاب و حساب و عذاب و کتاب
تا ابد اھل سنت پہ لاکھوں سلام
✍️ #سیدمہتاب_عالم
