تعظیم_و_تکریمِ_صحابہ_فرض_ھے 11
حدیث مبارکہ میں ہے
إذا أراد الله برجل من أمتي خيرا ألقى حب أصحابي في قلبه
(فیض القدیر)
جب اللہ تعالیٰ میری امت میں سے کسی بندے کی بھلائی کا ارادہ فرماتا ھے تو اس کے دل میں میرے صحابہ کی محبت ڈال دیتا ہے
شرح میں لکھا ہے
تمام صحابہ سے محبت کرنے والے مراد ہیں یہ نہیں کہ کچھ سے محبت کریں اور کچھ سے بغض رکھیں
تو جان لو
جس کو دیکھو کہ تمام صحابہ سے محبت کرتا ھے اللہ تعالیٰ نے اس سے خیر کا ارادہ فرمایا ہوا ھے
گواہ ہو جاؤ
میں تمام صحابہ کرام سے محبت کرتا ہوں
انکی عزت و ناموس پہ مرنے کو قابل عزت موت سمجھتا ہوں
کسی بھی ایک صحابی کا بغض دل میں آنے لگے اللہ اس سے پہلے ایمان پہ موت دے دے
صحابہ کرام کی محبت بلا چوں چراں ایمان کا حصہ ہے
یاد رکھیں صحابہ کرام سے محبت کرنے والا نفاق سے پاک دل ہے
اور جس دل میں ایک بھی صحابی کے خلاف میل ہے وہ منافق ہے
فتح مکہ سے پہلے اور بعد میں اسلام لانے والے صحابہ سب مراد ہیں
آپس میں جنگیں کرنے والے بھی مراد ہیں
باہم شکر رنجیاں رکھنے والے بھی مراد ہیں
اُن کے معاملات اُن کے رب کے سپرد ہم ان سے بلا شرط محبت کرنے والے ہیں
کیونکہ انہوں نے ہمارے محبوب کو دیکھا , صحبت پائی , ہمارے پیارے کی حمایت کی , افرادی قوت بڑھائی
صلی الله علیہ وسلم
سیدمہتاب_عالم
