شیطانی دروازہ

اسلامی_طرزِتربیت 44

سیدی عبد اللہ بن مسعود نے فرمایا

لِأَنْ أَعْضَّ عَلَى جَمْرَةٍ حَتى تُبَرد أَحَبّ إِليَّ مِنْ أَن أَقولَ لِشَيءٍ قَد قَضَاهُ اللّٰه لَيْتَهُ لَمْ يَكُنْ

میں آگ کا انگارہ منہ رکھ کر چباؤں حتی کہ وہ ٹھنڈا ہوجائے
مجھے یہ کام اس بات سے زیادہ پسند ھے کہ میں اللہ تعالی کے فیصلے پہ یوں کہوں کہ کاش ایسا نہ ہوا ہوتا

{المعجم الکبیر}

ہم میں سے اکثر لوگ عموما یہ کہتے نظر آتے ہیں کاش میں نے یہ کام نہ کیا ہوتا
کاش یہ نہ ہوا ہوتا
کاش یہ بات نہ کہی ہوتی وغیرہ وغیرہ

حدیث پاک میں ھے
إن لو تفتح عمل الشيطان

لفظ اگر کہنا شیطانی عمل کا دروازہ کھولتا ہے

{مسلم شریف}

یعنی بندہ یوں کہے
اگر میں یہ کرتا تو یوں ہوتا وغیرہ

گویا وہ کہ رہا ہے اگر فلاں وجہ ہوتی تو میرا کام ہو جاتا اس سے محسوس ہوتا ہے اس نے ظاہری وجہ و سب کو مؤثر بنایا ہے جبکہ حقیقی کرنے والا الله ہے
تمام اسباب و وجوہات الله رب العالمین کی پیدا کردہ ہیں
حقیقی سبب سے توجہ ہٹا کر ظاہری سبب کی طرف توجہ کرنا توحید میں خلل ڈالتا ہے
اسی وجہ سے اگر , کاش وغیرہ کہنے سے منع کیا گیا ہے

جو ہوچکا تقدیرِ الہی سمجھ کر صبر کریں
کاش کہ’ اگر مگر کو ترک کر دیں
ورنہ بندہ بے چین رہتا ہے اور افسوس کرتا رہ جاتا ہے
شیطان کا دروازہ بند کر دیں ان شاء اللہ سکونِ قلب پائیں گے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top