اسلامی_طرزِتربیت 43
Don’t throw the baby out with the bathwater
اسلامی حسن و جمال و طہارت و صفائی تمام ادیان سے منفرد و اعلی ہے
اسے اس تاریخی حقیقت سے سمجھیں
سولہویں صدی کے دوران انگلینڈ میں زیادہ تر لوگوں کی شادیاں جون میں ہوا کرتی تھیں
اس کی وجہ یہ تھی کہ یورپین لوگ مئی میں اپنا سالانہ غسل کرتے تھے تو وہ جون میں سال کے باقی دنوں کے سوا زیادہ صاف ہوتے تھے
پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بدبو دوبارہ آنا شروع ہو جاتی یہی وجہ تھی کہ دلہنیں اپنے ہاتھوں میں پھولوں کے گلدستے اٹھا کے رکھتی تاکہ ان کے جسموں سے نکلنے والی بدبو کو دور کیا جا سکے
آج یورپ میں یہ رواج عام ہے کہ دولہن پھول اٹھاتی ہے اس کی اصل یہی تاریخی حقیقت ہے
مئی میں گرم پانی سے بھرے بڑے ٹب سے نہایا کرتے تھے
اس کی ترتیب میں گھر کے باپ کو پہلے صاف پانی سے نہانے کی سعادت حاصل ہوتی تھی
اس کے بعد اس کے بیٹے اور گھر کے دوسرے مرد باری باری آتے پھر عورتیں پھر بچے اور آخر میں شیر خوار بچوں کو اسی پانی میں نہلایا جاتا
ایک ہی ٹب سے سارا خاندان نہا لے تو پانی کا حال کیا ہوتا ہوگا
بعض اوقات ایسا ہوا کہ شیر خوار بچہ اس گندے پانی میں ڈوب گیا جسے اس کی ماں نے پانی سمیت باہر پھینک دیا
اسی گندے پانی اور آخر میں شیر خواہ بچے کو نہلانے کی وجہ سے ایک مقولہ مشہور ہوگیا
Don’t throw the baby out with the bathwater
“بچے کو نہانے کے پانی کیساتھ باہر مت پھینکو
بعد میں یہ محاورہ
ناپسندیدہ چیزوں سے چھٹکارا پانے کے دوران کسی قیمتی چیز کو نہ کھونے کے استعارہ کے طور پر استعمال ہونے لگا
آپ اندازہ لگائیں یورپ کی گندگی کا کہ سال میں ایک بار نہاتے تھے
پھر بھی بو ختم نہیں ہوتی تھی اسی وجہ دولہن اور اس کے ساتھ والیاں پھول پکڑ کر رکھتی تھیں تاکہ دولہے کو بدبو محسوس نہ ہو
جبکہ اسلام دن میں پانچ بار وضوء کرنے اور ہفتے میں ایک بار غسل کرنے کا حکم دیتا ہے
اور یہ یورپین پسند چاہتے ہیں کہ وہی بدبودار نظام اسلام پر غالب آجائے
باڈی اسپرے , بغلوں کے لیئے الگ اسپرے پاؤں کے لیے الگ لوشن وغیرہ ہفتے بعد نہانے کی نحوست ہے
ورنہ نمازی مسلمان ہو دیکھیں ان چیزوں کا محتاج نہیں ہوتا
دن میں پانچ بار وضوء کرنے والا انتہائی صاف ستھرا اور قابلِ توجہ شخص ہوتا ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

