سلطانوں کے باپ کا ایمانی جذبہ

تاریخِ_اسلامی 53

مورخین نے سلطان عثمان غازی رحمة الله عليه کی ایک امتیازی خصوصیت جس کا ذکر کیا وہ ° ان کا ایسا ایمانی جذبہ ہے جسے دیکھ کر غیر مسلم قائدین مسلمان ہو جاتے تھے °
جن میں بورسہ کے قائد اقرینوس جن کو سلطان عثمان نے بک کا لقب عطاء کیا
اور بزنطینی کمانڈر میخائل کوسسس بھے تھے
بہت سے بزنطینی کمانڈر سلطان عثمان غازی کے جذبہ ایمانی سے متاثر ہوئے اس بات کا صاف اقرار مورخین نے کیا ہے
{ الدولۃ العثمانیہ لعلی الصلابی }

اسی عثمانی ایمانی جذبہ کی وجہ سے بہت سی تنظیمیں خود بخود بن گئیں اور مسلمانوں کی فلاح کی کام اپنی مدد آپ کے تحت کرنے لگیں
یہ عجیب و غریب کام تھا اور واضح محسوس ہوتا ہے اس میں حکیم مطلق اللہ رب العزت کی حکمت تھی
اور وہ یہ تھی کہ °°° اسی وقت بغداد میں مسلمانوں پر منگولوں جیسی آفت آئی اور امت کا شیرازہ بکھر کے رہ گیا اور اسی دور میں دوسری طرف سلطان عثمان کی صورت انعامِ الہی امت کو ملا اور مسلمانوں نے بہت سی فلاحی تنظیمیں بنا لیں °°°

ان تنظیموں میں ایک
غزیاروم تھی جو روم کی سرحدوں سے مسلمانوں پر ہونے والے حملے روکتی تھی
یہ اگرچہ عباسی دور میں بنی مگر ترکوں نے سلطان عثمان کے دور میں اسے مضبوط کیا
اخیان یعنی بھائی یہ صوفیاء کی جماعت تھی جو مسلمانوں کے معاشی و دیگر معاملات میں تعاون کرتی تھی اور لشکر اسلام کی خدمت کرتی تھی
ان کا کام مساجد و مدارس و خانقاہیں بنانا تھا
° ان کے سر براہ شیخ ادیب علی (ادہ بالی) تھے °
ایک تنظیم حاجیات روم تھی یہ فقہاء کی جماعت تھی جو مسلمانوں کے دینی مسائل حل کرتی اور مجاہدین کا سامان تیار کرتی
ان میں ایک باجیان تنظیم تھی جسے شیخ ادہ بالی کی بیٹی اور عثمان اول کی زوجہ رابعہ بالا خاتون نے بنایا تھا
یہ وہ تنظیمیں تھیں جو از خود بغیر کسی حاکم کی مدد کے فی سبیل اللہ کام کرتی تھیں
سلطان عثمان غازی نے جو تنظیمیں بنائیں اور وہ الگ ہیں
قصہ مختصر کہ بغداد کی عوام عیاشیوں میں پڑی تو تباہ ہوگئی اور ترک عوام کے فلاحی کام شروع کیئے تو اللہ رب العزت نے سات سو سال کے لیئے ان کو دنیا کی عظیم قوم بنا دیا

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال خود اپنی آپ حالت بدلنے کا

ہم تبدیل ہوں گے تو ملک ترقی کرے گا

کوئی چوری چکاری نہ چھوڑے, کوئی حقوق تلفیاں نہ چھوڑے پھر کہے کہ حکمران خائن ہیں تو وہ کذاب ہے

سیدمہتاب_عالم#✍️

Scroll to Top