اسلامی_طرزِتربیت 106
علماء کو عاشقانہ شاعری کرنا جائز ہے
اعلی حضرت امام اھل سنت فتاویٰ رضویہ جلد دو صفحہ 999 پر ارشاد فرماتے ہیں کہ
عبادتِ و محنتِ دینیہ کے بعد دفعِ کلال و ملال و حصولِ تازگی و راحت کے لیئے احیاناً کسی امرِ مباح میں مشغولی جیسے جائز اشعار عاشقانہ کا پڑھنا سننا شرعاً مباح بلکہ مطلوب (یعنی شریعت کا تقاضا) ہے
امام اھل سنت نے بڑا ہی نفیس قاعدہ بیان فرمایا ہے
جس قاعدے سے بہت سے پارساؤں کی پارسائی کا بھرم ٹوٹا اور متقیوں کے بے جا و خشک تقوے کی بنیاد ہلا دی ہے
صحابہ کرام سے بڑا متقی کون ؟
مگر وہ نفوسِ قدسیہ بھی جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی شعر شاعری و زمانہ جاہلیت کے قصے سنتے سناتے اور وہ صلی اللہ علیہ وسلم پیاری پیاری مسکراہٹ سے ان کے قلوب و شعور کو تازگی بخشتے تھے
مگر یہاں خوب یاد رکھیں کہ جنتی زیور میں مفتی صاحب نے جوان لڑکیوں کو اور ان کے سامنے عشقیہ شاعری کرنے سے سختی سے منع فرمایا ہے
لہذا نجی محافل ہوں یا سوشل میڈیا کی بزمِ عام کسی صورت کسی مسلمان خاتون کو جائز نہیں کہ وہ شعر و شاعری کرتی پھرے
اور شعر پر شعر کی گرہ لگاتی جائے کہیں اس کے دل میں یہ شعر جادو کی طرح اتر کر عشق کا بیج نہ بو دیں
کیونکہ حدیث مبارکہ ہے
ان من البیان لسحرا
کچھ بیان جادو ہوتے ہیں
یعنی جادو کی طرح دل میں گھس جاتے ہیں اور دل کی دنیا الٹ پلٹ دیتے ہیں
اسی طرح خوبصرت آواز سے بھی خواتین کو بچنے کا حکم ہے
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدی انجشہ رضی اللہ عنہ
{ جو کہ اونٹوں کو تیز چلانے کے لیئے سریلی آواز سے نغمہ گایا گرتے تھے }
ان کو حج پر جاتے وقت فرمایا
رفقا بالقواریر
اے انجشہ ان کانچ کی ٹکڑیوں سے نرمی کرو
یعنی نغمہ نہ گاؤ خواتین ساتھ ہیں کہیں تمہاری آواز سے ان کے دل پر اثر نہ پڑے اور دل کے آبگینے ٹوٹ نہ جائیں
مگر ہم دیکھتے ہیں کہ آج کل کی خواتین شعر جو کہ جادو اس میں بھی مبتلاء
اور نا محرموں کی سریلی آواز جو کہ شعر سے بڑا جادو ہے وہ بھی سنتی ہیں
انہیں وجوہات کی بناء پر غیر مذہبی تو دور مذہبی خواتین عشق و محبت میں کثرت سے گرفتار نظر آتی ہیں
یہ عجیب جادو ہے جس میں جوان بچیاں خود اپنی مرضی سے گھستی ہیں
آپ کو جہاں محسوس ہو کہ دل مائل ہو رہا ہے وہاں جانا بالکل بند کر دیں خواہ نوجوان عالم ہو یا نعت خوان ہو
ایک تیسری قسم بھی سامنے آئی ہے کہ فیسبک , وٹس ایپ سوشل میڈیا وغیرہ پر نوجوان لکھاری تحریر کرتے ہیں خواتین ان کی محبت میں بھی پڑ جاتے ہیں
عرض ہے کہ لکھنے والا اپنا نام فی الضمیر لکھتا ہے مگر اس کا عمل عموماً آپ کے تصورات و توقعات کے خلاف ہوتا ہے لہذا ایسوں سے دور رہیں اور ایسی محبت سے باز رہیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم
