تصوف_وصوفیاء 67
دورِ جدید میں خانقاہی نظام کی اشد ضرورت ہے
شیوخ و مربیین کی شدید حاجت ہے
موجودہ آستانے کسی لحاظ سے خانقاہ کے فرائض سر انجام نہیں دے رہے
خانقاہ کسی دربار کا نام نہیں نہ صاحبِ مزار کے نام پر چندے کھانے اور دم و تعویزات اور نہ صاحبِ مزار کے عرس منانے کا نام ہے
خانقاہ مسجد مسجد و مدرسہ سے ہٹ کر ایک الگ روحانی مرکز کا نام ہوتا تھا
جہاں ایک صاحبِ نظر و عارفِ کامل لوگوں کی فکر اور زبان درست کرتا تھا
جبکہ یہاں افکار آلودہ اور زبانیں غلیظ ہیں
مسجد نبوی میں اصحاب صفہ کی طرز پر لوگ گھر بار ,کام و کار چھوڑ کر خانقاہ میں کثرت سے عبادت و ریاضت کیا کرتے تھے
صاحبِ خانقاہ تصوف کے طالبین کو اوراد و وظائف دیتے
ہر طالب کی اندرونی کیفیت کے مطابق خدمت پر لگاتے یوں تزکیہ نفس کرتے
صوفیانہ آداب سکھاتے روحانی مراتب طے کرواتے تھے
الغرض خانقاہی نظام اصل میں چلہ گاہ ہوا کرتی تھی جہاں محنت و مشقت سے تصوف کے علمی راز عمل کروا کے سکھائے جاتے تھے
ہمارے شیخِ طریقت امیر اہلِ سنت کی خانقاہ فیضان مدینہ ہے
جہاں لاکھوں کے روحانی مسائل حل کیئے جاتے ہیں
مگر
آج پیر و مشائخ کثیر ہیں مگر خانقاہ نہیں ہے
اصل خانقاہی نظام ختم ہو چکا ہے بس خانقاہوں سے مال بٹورنے کا مکروہ دھندہ شروع ہوگیا ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
