گناہ گار مومن کا نور کتنا عظیم ہوتا ہے

تصوف_وصوفیاء 68

°°° ناری صفات نہیں نوری صفات °°°

شیطان نار سے بنی مخلوق ہے تو یہ اسی پر غلبہ پاتا ہے جس میں ناری صفات ہوں
ناری صفات میں غصہ و حسد و شہوت و کینہ اور پیٹ بھر کے کھانا ہے
اگرچہ یہ صفات بندوں میں فطری ہیں مگر ان کا استعمال و اظہار ناری کو حاوی کرتا ہے
حدیثِ مبارکہ میں ہے

إنَّ الغضَبَ مِنَ الشيطانِ وإنَّ الشيطانَ خُلِقَ منَ النارِ وإنَّما تُطفأُ النارُ بالماءِ فإذا غضِبَ أحَدُكم فلْيَتوضَّأْ
غصہ شیطان کی طرف سے ہے اور شیطان آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور آگ پانی سے بجھائی جاتی ہے تو جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اسے چاہیے وہ وضوء کر لے
❗ ابو داؤد شریف ❗
غصہ آئے تو خون ابلتا ہے جیسے آگ پر کوئی شے ابالی جاتی ہے
اسی غصے سے حسد و بغض پیدا ہوتے ہیں
شہوت بھی خون کے ابال کا نام ہے
تو جس میں ناری صفت ہو شیطان اس پر جلد غلبہ پا لیتا ہے
مگر جس پر روحانیت کا غلبہ ہو جس کی طینت جنتی اور روح آسمانی ہو اس کے خون میں ابال جلد نہیں آتا وہ غصہ اور غصے سے پیدا ہونے والے جرائم نہیں کرتا
لہو میں ابال کی صورت انسان جلد بازی کرتا ہے
حدیث مبارکہ میں ہے
التأني من الله والعجلة من الشيطان
ٹھہراؤ اللہ رب العزت کی طرف سے ہے اور جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے
❗ مسند ابو یعلیٰ ❗
دوسری روایت میں ہے
السَّمْتُ الحَسَنُ والتُّؤَدَةُ والاقتصادُ جزءٌ من أربعةٍ وعشرينَ جُزءًا من النبوةِ
اچھی ہیئت اور ٹھہراؤ اور میانہ روی نبوت کے چوبیسویں جزء میں سے ہے
❗ ترمذی شریف ❗
جلد بازی خون میں حدت کی وجہ سے ہوتی ہے اور خون میں تپش شیطان کے غلبے کو آسان بنا دیتی ہے جبکہ ٹھہراؤ جنتی مٹی کی ٹھنڈک کی وجہ سے ہوتا ہے

جب غصہ آتا ہے تو لا حول ولا قوۃ الا باللہ پڑھا جاتا ہے کیونکہ یہ مبارک کلمہ شیطان کو کمزور کرتا ہے
اسی طرح لا الہ الا اللہ پڑھا جاتا ہے کیونکہ شیطان پر اس کلمہ پاک سے زیادہ سخت کچھ نہیں ہے

❗حکایت نافعہ❗
سید الطائفہ جنید بغدادی رحمة الله تعالى عليه فرماتے ہیں
میں نے خواب میں شیطان کو ننگا دیکھا تو کہا تجھے لوگوں سے حیاء نہیں آتی ؟
شیطان کہنے لگا
اے جنید یہ تمہارے نذدیک انسان ہیں ؟
اگر یہ انسان ہوتے تو میں ان سے یوں نہ کھیلتا جیسے بچہ گیند سے کھیلتا ہے
انسان تو ان کے علاؤہ ہوتے ہیں
میں نے کہا وہ کون ہیں ؟
شیطان کہنے لگا
وہ مسجدِ الشونیزی میں ہیں میرے دل کو انہوں نے تنگ کر دیا اور میرے جسم کو گُھلا دیا ہے جب بھی میں ان کے قریب ہونے لگتا ہوں تو ان کے ذکرِ الٰہی کی وجہ سے میں جلنے لگتا ہوں
شیطان ناری خلقت کے ذریعہ انسان کی ناری صفت پر غلبہ پا کے اسے ایسے گھماتا ہے جیسے بکری کے بچے کو کام سے پکڑ کر گھمایا جاتا ہے
ذکرِ الٰہی کی تپش بھی ہوتی ہے مگر وہ ایک نور ہوتا ہے جو شیطان کو جَلا اور جہنم کو بُھجا اور مومن کو جِلا دیتا ہے
جب بندہَ مومن پل صراط سے گزرے گا تو جہنم کہے گی

جز يا مؤمن فقد أطفأ نورك لهبي
جلد گزر جا اے مومن کیونکہ تیرے نور نے میرے شعلے بجھا دیئے ہیں
❗ جامع الصغیر ❗
الله الله نورِ مومن کی شان تو دیکھیں جہنم کہ جسے سوئی کے ناکے کے برابر کھولی جائے تو ساری دنیا جل جائے وہ جہنم نورِ مومن سے بجھتی ہے
سیدی ابو الحسن الشاذلی فرماتے ہیں
لو كشف عن نور المؤمن العاصي لطبق ما بين السماء والأرض فما ظنك بنور المؤمن المطيع
اگر گناہ گار مومن کے نور سے پردہ ہٹا دیا جائے تو زمیں و آسمان کے درمیان سب پر چھا جائے تو اطاعت گزار مومن کے نور کے بارے تیرا کیا خیال ہے ؟

❗ طبقات الکبری للشعرانی ❗
نورِ مومن کی قوت کون سمجھ سکتا ہے
اور یہاں یہ بات بھی سمجھیں مومن اپنا نور کیسے بڑھا سکتا ہے ؟
{1} لا الہ الا اللہ کی کثرت سے
{2} درود شریف کی کثرت سے
{3} صدقہ دینے سے
{4} نماز پڑھنے سے
{5} اندھیری راتوں میں مساجد کی طرف جانے سے
{6} علمِ دین کے لیئے کوشش کرنے سے
الغرض ناری صفات پہ قابو پائیں اور نوری صفات اجاگر کریں اور نور بڑھائیں
✍️ #سیدمہتابعالم

Scroll to Top