طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 46
فضل علم السلف علی علم الخلف میں ابن رجب حنبلی نے سیدی معروف کرخی کا فرمان نقل کیا ہے
اذا اراد اللہ بعبد خیرا فتح لہ باب العمل و اغلق عنہ باب الجدل
و اذا اراد اللہ بعبد شرا اغلق عنہ باب العمل و فتح لہ باب الجدل
اللہ رب العزت جب کسی بندے سے بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیئے عمل کا دروازہ کھول دیتا ہے اور جھگڑے کا دروازہ بند کر دیتا ہے
اور جب کسی بندے کو شر میں مبتلاء کرنے کا ارادہ فرماتا ہے تو اس سے عمل کا دروازہ بند کر دیتا ہے اور جھگڑے کا دروازہ کھول دیتا ہے.
یعنی ہر بات کا جواب دینا ہر ایک سے مناظرے کی کوشش کرنا ہر احمق کی باتوں پر علمی دلائل کے انبار لگانے کی کوشش کرنا وغیرہ
° ان باتوں سے بہت بہتر ایک بار سبحان اللہ کہنا اور دو رکعت نماز پڑھنا ہے °
فتنہ باز عبادت و ذکر و اذکار سے زیادہ مناظرے اور مباحثے کی طرف جاتا ہے
کیونکہ شیطان اسے یہ وسوسہ ڈالتا ہے کہ عبادت تیرے ذاتی فائدے اور مناظرہ یا مباحثہ یا ردِ مخالف کرنا دین کی حمایت ہے
اور وہ کمبخت اس شیطانی وار کی وجہ سے ایک تو عبادت سے دور رہتا ہے دوسرا امت میں فتنے و انتشار کا سبب بنتا ہے
امام مالک کا فرمان ہے
میں نے اھلِ مدینہ یعنی تابعین کو زیادہ مسائل جمع کرنے کو مکروہ جانتے ہوئے دیکھا ہے
یعنی علم میں مباحثہ کرنے سے اجتناب کرتے اور انفرادی نفلی عبادت پر پابندی کرتے تھے
سوشل میڈیا پر کچھ لوگوں کا ہدف اصلی اور مقصد اول ہی یہ ہوتا ہے کہ اختلافی پوست کریں اور زیادہ کمنٹ آئیں
آپ کبھی ان کی پوسٹس میں اصلاحی پہلو نہیں دیکھیں گے بلکہ وہ شیطان کے اسی وار کے شکار ہیں کہ نفلی عبادت سے بہتر امت کی رہنمائی ہے لوگوں کو باطل عقیدوں سے بچانا ہے وغیرہ وغیرہ جبکہ یہ اکابر امت کا کام ہے
ہر ایرا غیرا نتھو خیرا امامِ امت و مقتداء و رہمنا بننے کے چکر میں امت کو فتنے میں دھکیل رہا ہے
کہیں بھی اختلافی پوسٹ دیکھیں تو وہاں کمنٹ کرنے بحث کرنے کی بجائے سبحان اللہ العظیم کہ لیں درود پاک پڑھ لیں دو رکعت نماز پڑھ لیں
تو فتنے خود بخود دب جائیں گے
علمی دلائل و مناظرہ صرف علماء کا کام وہ بھی علماء میں سے ہر ایک کا کام نہیں کہ اس کی اجازت دی جا سکتی ہے
قرآن کریم نے فرمایا
اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُؕ
اپنے رب کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ اور ان سے اس طریقے پر بحث کرو جو سب سے اچھا ہے
تفسیر قرطبی میں اس آیت مبارکہ کے تحت ہے
اللہ رب العزت نے حکم دیا کہ اس کے دین کی طرف نرمی سے بلاؤ اور سختی نہ کرو
قیامت تک یہ آیت گناہ گار مسلمانوں کے لیئے بھی ہے کہ ان کو بھی یونہی نرمی سے سمجھایا جائے
تفسیرِ بغوی میں اسی آیت مبارکہ کے تحت ہے
ان سے اچھے انداز سے بحث کرو یعنی ان کی طرف سے دی گئی اذیتوں سے درگزر کرو
سبحان اللہ العظیم
° کہاں حکمِ الٰہی کہ نرمی سے بات کرو اور اگر آگے سے اذیت دی جائے تو برداشت کرو اور کہاں آج کل کے مبلغین جو مخالف کو ذہنی اذیت دے کر بات شروع کرتے ہیں °
یعنی گالی گلوچ اور نام بگاڑنا , برے القاب سے یاد کرنا مثلاً کسی کو کھٹمل, منافق , رافضی , نیم رافضی, گمراہ کہ کر بات کرنا وغیرہ
جب آپ تبلیغ کر رہے ہیں تو ایسے الفاظ سے کلیتاً اجتناب کریں
جب آپ فتویٰ دے رہے ہیں اور کسی نے فتویٰ پوچھا ہے تو حکمِ شرعی بیان کریں وہ بھی جس قدر وہ مستحق ہے
اپنی بھڑاس نکالنا فتنہ بازی ہے خدمتِ دین نہیں کیونکہ آپ کے نام بگاڑنے سے وہ قریب نہیں مزید دور ہوگا
✍️ #سیدمہتاب_عالم
