عشقِ_سیدِ-عالم 55
جامع صغیر میں حدیث ہے
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
ليس الخبر كالمعاينة إن الله خبر موسى بما صنع قومه في العجل فلم يلق الألواح فلما عاين ما صنعوا ألقى الألواح
خبر معاینہ کی طرح نہیں ہوتی
بے شک الله رب العالمین نے موسی علیہ السلام کو خبر دی کہ ان کی قوم نے بچھڑے کے ساتھ کیا کیا ہے تو انہوں نے تختیاں نہیں گرائی اور جب اپنی آنکھوں سے قوم کے کرتوت دیکھے تو تختیاں گرا دیں
جب سیدنا موسی علی نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام طور پر چالیس دن کے لیئے گئے اور اللہ رب العزت نے ان کو تختیاں عطاء فرمائی جن میں احکام تھے پھر خبر دی کہ اے موسیٰ تیری قوم نے بچھڑے کو معبود بنا لیا ہے تب موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ سے وہ تختیاں نہیں گریں مگر جب واپس آئے اور قوم کو بچھڑے کو پوجتے دیکھا تو وہ تختیاں گرا
دیں
ذرا سمجھیں کہ اللہ رب العزت کی دی ہوئی خبر خود کی آنکھوں سے دیکھی شے سے بھی ہزار درجہ زیادہ معتبر ہے
مگر فطرتِ انسانی آنکھوں دیکھی پر ہی یقین کی قائل ہے
اسی وجہ سے موسیٰ علیہ السلام کا یہ عمل قابلِ مواخذہ نہیں ہے
اس حدیث کی شرح فیض القدیر میں یوں ہے
موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کی فتنہ الله کے کلام سے پہچان لیا تھا کیونکہ کلام الله کی صفت ہے جب صفتِ الٰہیہ کا ظہور ہوتا ہے صفتِ عبد ظاہر نہیں ہوتی اسی وجہ سے اس خبر کے وقت موسی علیہ وسلم نے وہ تختیاں نہیں گرائی
کیونکہ صفتِ الہی کی قوت سے قائم تھے
مگر جب اپنی آنکھوں سے دیکھا تو وہ صفتِ عبد تھی جس میں عجزِ بشری ہوتا ہے تو خود پر قابو نہ رکھ سکے اور وہ تختیاں گرا دیں
اصل نکتہ آگے ہے
کہ
مصطفیٰ کریم صلی اللہ علیہ وسلم شبِ معراج ثابت رہے جب قاب قوسین او ادنی کے مقام پر فائز ہوئے
اتنے ثابت رہے کہ الله رب العزت نے جو تجلی فرمائی اس کی بھی امت کو خبر دے دی کہ رب العالمین سبحانہ و تعالیٰ نے اپنا دستِ قدرت میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھا تو میں نے اس کی ٹھنڈک محسوس کی جبکہ موسیٰ علیہ السلام پہاڑ پر تجلی کے وقت ثابت نہ رہ سکے بلکہ بیہوش ہو کر زمین پر تشریف لے آئے
اس کی حکمت یہ ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم شبِ معراج حق کے اوصاف سے متصف تھے ان کا بشری عجز فناء ہو چکا تھا بشریت کا اس وقت اثر تھا ہی نہیں
جبکہ موسیٰ علیہ السلام بشری صفت سے پہاڑ کی طرف دیکھ رہے تھے تو برداشت نہ کر سکے
❗فیض القدیر جلد 5 صفحہ 433❗
مذکورہ تحقیق کا نچوڑ یہ ہوا کہ
ہمارے پیارے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بلا پردہ اپنے رب کو دیکھا غشی طاری نہ ہوئی کیونکہ وہاں بشریت مفقود تھی کیونکہ حضور بشر بھی ہیں نور بھی ہیں
وہاں صرف حقیقت و نورانیتِ محمدیہ تھی
جبکہ موسی علیہ السلام پہاڑ پر پڑتی تجلی کو دیکھ کر بیہوش اس وجہ سے ہوگئے کہ اس وقت وہ بشری حالت میں تھے
ذرا غور کریں پورا پہاڑ سرمہ بن گیا اور الله کے نبی صرف بیہوش ہوئے
کتنی قوت و طاقت ہوگی اس جلیل القدر نبی میں کیسی شان والا وہ کلیم ہے
اور اس پیارے کلیم سے بلند شان والے حبیب ہیں جنہوں نے ذاتِ الہی کو دیکھا اور نہ پلک جھپکی نہ دل نے جھٹلایا
اللھم صل وسلم وبارک علی سیدنا و مولانا محمد کما تحب و ترضی له
سیدمہتاب_عالم# ✍️
