طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 43
جس کا دل بے چین رہتا ہو ذہن منتشر ہوتا ہو بے سکونی کی کیفیت محسوس کرتا ہو دنیا کے غموں سے چور چور ہو اس کے لیئے ایک نہایت پر اثر اور میرا ذاتی مجرب نسخہ ہے
واضح طور پر اپنے غموں میں کمی پائے گا
اسماء الرجال اور حالاتِ صوفیاء پڑھے
مثلا سیر اعلام النبلاء , طبقات الفقہاء, طبقات الشافعیہ, طبقات الکبری,
فقہاء و محدثین و صوفیاء کرام کے واقعات و حالات زندگی پڑھے
ان شاءاللہ غم کم ہوجائیں گے
اس کی دلیل حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ فرمان ہے
لَا يَشْقَى بِهِمْ جَلِيسُهُمْ
ان کے مجلس میں بیٹھنے والے بدبخت نہیں ہو سکتے
{بخاری شریف }
اور سفیان بن عیینہ کا فرمان
عند ذکر الصالحین تنزل الرحمة
صالحین کے ذکر کے وقت رحمت نازل ہوتی ہے
{ حلیة الاولياء }
رحمت ہی تو سکون و راحت ہے
جب آپ فقہاء و محدثین و صوفیاء کے حالات پڑھیں گے تو گویا ان کی صحبت میں بیٹھے ہیں
یہی تو وجہ ہے کہ آپ علماء کو مہنگائی و پر فتن دور میں ہشاش بشاش دیکھتے ہیں
کیونکہ وہ نیکوں کی صحبت میں بیٹھتے ہیں
آپ بھی فقہاء و محدثین و صوفیاء کی صحبت میں بیٹھا کریں دل کو سکون و راحت و چین ملے گا
ایک شخص نے سیدی جنید بغدادی سے پوچھا
دل کو سکون کیسے نصیب ہو
فرمایا
اولیاء کرام کے واقعات پڑھنے سے
کہنے لگا
قرآن کہاں گیا ؟
فرمایا
قرآن نے ہی تو فرمایا
وَ كُلًّا نَّقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهٖ فُؤَادَكَۚ
اور رسولوں کے واقعات ہم تمہیں سناتے ہیں تاکہ تمہارے دل کو قوت دیں
معلوم ہوا نیکوں کے واقعات دل کو ڈھارس بندھاتے , فتنوں میں ثابت قدم رکھتے اور سکون دیتے ہیں
°°° الغرض صلحاء کے بارے پڑھنا گویا ان کی صحبت میں بیٹھنا ہے , نزولِ رحمت کا سبب ہے اور دل کو قرار آنے کی وجہ ہے °°°
✍️ #سیدمہتابعالم
