جنگل میں آگ لگانے والا فاسق پرندہ

عجائباتِ_عالم 52

آپ کی نگاہ میں مفتیِ ماجن کون ھے ؟

پہلی تصویر 1932 کی ہے,جس میں تین سال سالہ بچی کو عقاب اٹھا کر لے جا رہا ھے,
اتفاق دیکھیئے اس وقت کیمرے اتنے عام نہیں تھے مگر پھر بھی یہ منظر کیمرے کی آنکھ نے قید کر لیا,200 لوگ اس بچی کی تلاش میں نکلے اور سات گھنٹوں کی مسلسل محنت کے بعد 180 میڑ کی بلندی پر عقاب کے گھونسلے میں بچی کو سوتے ہوئے دیکھا
حیرت کی بات ہے کہ بچی کو کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا تھا اس کے بعد وہ بچی 12 نومبر 2010 تک زندہ رہی تھی

جب اللہ رب العزت کسی کو زندگی دینا چاہے تو ساری دنیا اسے موت کی طرف نہیں لے جاسکتی

کوا و چیل اور عقاب ایسے پرندے ہیں جو انسان سے قیمتی اشیاء چھین لیتے ہیں
اسی وجہ ان پرندوں کو ہر جگہ قتل کر دینے کا حکم ہے
حرم پاک میں دشمن کو بھی مارنا منع ہے حتی کہ اپنا بال اکھیڑنا منع ہے
جو ایسا کرے گا اس پر کچھ نہ کچھ صدقہ کرنا واجب ہوتا ھے
مگر چند جانور ایسے ہیں جن کو حرم پاک میں بھی مار دینے کا حکم ھے
سنن ابن ماجہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے

خمْسٌ مِنْ الدَّوَابِّ كُلُّهُنَّ فَاسِقٌ، يُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ: الْغُرَابُ، وَالْحِدَأَةُ، وَالْعَقْرَبُ، وَالْفَأْرَةُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ
جانوروں میں پانچ جانور فاسق ہیں جن کو حل و حرم میں قتل کیا جائے گا کوا و چیلو بچھو و چوہیا اور کاٹنے والا کتا

کوے کو قتل کرنے کا حکم اس لیئے ہے کہ بچوں کے ہاتھ سے اشیاء چھین لیتا ھے اور وہ اشیاء کوے کی خوراک بھی نہیں ہوتی
اور جہاں انسان کھڑا ہوتا ہے عین اس کے اوپر بیٹھ کر بیٹ کر دیتا ہے

بچھو کو مارنے کا حکم اس لیئے کہ وہ بھی بغیر وجہ کے ڈنگ مارتا ھے
جیسا کہ شعب الایمان کی حدیث پاک میں ہے,
بچھو نے حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈنگ مارا تو حضور سیدِ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی لعنت ہو اس بچھو پر یہ ہر ایک کو ڈنگ مارتا ھے نہ نبی کو چھوڑتا ھے نہ غیر نبی کو چھوڑتا ھے

چوہیا کو قتل کرنے ک حکم اس لیئے ہے کہ پورے گھر کو آگ لگا دیتی ہے
حدیث پاک میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے کہ چوہیا ایک چراغ گھسیٹ کر لائی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ڈال دیا
جس سے ایک درھم کی مقدار جگہ جل گئی تو حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

إذا نمتم فأطفئوا سراجكم، فإن الشيطان يدل مثل هذه على هذا فيحرقكم
جب تم سونے لگو تو چراغ بجھا دیا کرو کیونکہ شیطان اس جیسی مخلوق کو گمراہ کرتا ھے تو وہ تمہیں آگ میں جلا دیتا ھے

مدینہ پاک میں ایک صاحب کا گھر بھی یونہی چوہیا نے جلا دیا تھا

کاٹنے والے کتے کو حل و حرم میں قتل کرنے کا حکم اس لیئے ہے کہ یہ ہر ایک کو کاٹ لیتا ھے

حدیث پاک میں مذکور پانچویں جانور کا ذکر ہے وہ چیل ھے
اس کو بھی حرم و غیر حرم میں مار دینے کا حکم ھے
علامہ کمال الدین دمیری نے حیات الحیوان میں چیل کا نام ابو الخطاف ذکر کیا یعنی جھپٹ لینے والا
چیل نہ صرف انسانوں سے اشیاء چھین لیتی ہے بلکہ پورے جنگل کو آگ لگا دیتی ہے

دوسری تصویر میں دیکھیں

ایک چیل جنگل میں آگ کا سبب بنی ہے
امریکہ یورپ اور خاص طور پر آسٹریلیا میں چیل جلتی لکڑی اٹھا کر جنگل میں پھینک دیتی ہے تاکہ چھوٹے موٹے جانور اپنی بِلوں سے نکل آئیں اور چیل اپنے پسندیدہ چھوٹے چھوٹے جانوروں کا شکار کر سکے
چیل اپنی خوارک کے لیئے سینکڑوں کلو میٹر جنگل کو آگ لگا دیتی ہے
پہلے پہل لوگوں کا خیال تھا کہ کوئی ایسا پرندہ ہے جو منہ سے آگ نکالتا ھے جس کی وجہ سے جنگل راکھ کا ڈھیر بن جاتا ھے
مگر پھر سائنسی تحقیق سے ثابت ہوا کہ آگ نکالنے والا کوئی پرندہ نہیں ہے
بلکہ چیل اپنا شکار حاصل کرنے کے لیئے جنگل میں آگ لگاتی ہے
اور یہ طریقہ آسٹریلیا کے قدیم باشندوں کا بھی ہے کہ وہ جنگلی جانور پکڑنے کے لیئے جنگل میں آگ لگاتے تھے
حیات الحیوان میں لکھا ہے چیل حضرت سیدنا سلیمان علی نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام کا جاسوس پرندہ تھا اسی لیئے چیل کو قید میں نہیں رکھا جا سکتا نہ یہ انسان سے مانوس ہوتی ہے
کیونکہ چیل انسان سے اشیاء چھینتی اور جنگل میں اپنے فائدے کو آگ لگاتی ہے اسی لیئے اسے بھی حرم و غیر حرم میں قتل کر دینے کا حکم ہے

اسی سے علماء نے مسئلہ اخذ کیا کہ جو بھی جانور ضررِ عامہ کا سبب بنے اسے مار دیا جائے
مثلاً بلی تنگ کرتی ہو تو اسے مار دینا جائز ہے
اسی پر علامہ دمیری نے حرم پاک ان جانوروں کو مار دینے کا بھی فرمایا جن کا ذکر حدیث میں نہیں آیا مثلا عقاب و شکرہ اور چیتا وغیرہ
ایسے ہی جو بھی انسان ضررِ عامہ کا سبب بنے اسے بھی تعزیراً قتل کیا جائے گا
جادوگر و ڈاکو اسی وجہ سے شریعت میں ناپسند اور تعزیراً قتل کیئے جانے کے حکم میں ہیں
بعض انسان اپنے کرتوتوں کی وجہ سے محجور قرار پاتے ہیں اور بعض قتل کر دیئے جاتے

مثلا ڈاکو و جادوگر قتل کیئے جائیں گے اور لوگوں کو اکثر غلط فتوے دینے والے مفتی کو مفتی ماجن کہتے ہیں
حاکمِ وقت اسے فتوی دینے سے روک دیتا ھے
نظامِ اسلامی کا یہی سب سے بڑا فائدہ ہے کہ وہاں کوئی خود مختار نہیں ہے وہاں آزادی اظہار رائے جیسا بیہودہ تصور نہیں ہے کیونکہ اسلامی معاشرہ سراسر اطاعت کا نام ہے
حاکمیت اللہ تعالیٰ کی اور ہم بس بندے ہیں اسکی شریعت کے دائرے میں رہ کر جو چائے کر سکتے ہیں
اگر آج نظامی اسلامی ہوتا تو آج کتنے ہی شیخ الاسلام محجورِ شرعی ہوتے کتنے ہی مفتیِ اعظم مفتی ماجن قرار پاتے
کتنے ہی امام عوام بن جاتے

اِس وقت نہ صرف عالمِ اسلام کی بگڑتی صورتِ حال کو بلکہ تمام جہان کی انسانیت سے گرتی صورتِ حال کو صرف ایک نظام کی حاجت ہے اور وہ نظام خلافت ھے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top