لطائفِ_علمیہ 145
بڑی سچی بات کہی
ﻻ ﻳﻌﻮﺩ ﺍﻟﻤﺮﺀ ﻟﻠﻜﺘﺎﺑﺔ ﻭﻫﻮ ﺑﺨﻴﺮ
ﺍﻟﺬﻱ ﻳﻜﺘﺐ ﻳﻌﺎﻟﺞ ﻧﻔﺴﻪ ﻣﻦ شيءٍ ما
آدمی کے لکھنے کی عادت اس کی خیریت والی حالت میں نہیں ہوتی
جو لکھتا ہے اصل میں وہ کسی شے سے اپنے آپ کا علاج کر رہا ہوتا ہے
یعنی اپنے دل کی بھڑاس نکال رہا ہوتا ہے
آپ لکھنے والے حضرات کو دیکھیں ان کے دوست کم اور غم زیادہ ہوتے ہیں
بس اسی تنہائی کا علاج اور اپنے دل کی بھڑاس لکھ کر نکال رہے ہوتے ہیں!
شاید اسی لیئے ہماری تحریر میں اثر و زور ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
