عشقِ_الہی_مقصدِ_حیات 20
و نحن لا ننظر إلى اللسان أو إلى المقال نحن ننظر إلى الروح و إلى الحال
ہم نہ زبان کی طرف دیکھتے ہیں نہ گفتگو کی طرف دیکھتے ہیں
ہم تو اندر کی حالت اور روح کی طرف دیکھتے ہیں
❗ جلال الدين الرومي ❗
جس سے ہماری زبان کا گفتگو مطابقت کر جائے وہ ہمارا ہمنشین بن جاتا ہے اور جس سے ہماری حالت موافقت کرے اور روح انسیت کرے وہ ہمارا محبوب بن جاتا ہے
ہماری روح سے کم ہی لوگوں کی روح کو انسیت ہے اسی لیئے نہ ہم محبیت میں ہیں نہ محبوبیت میں ہیں
بندے پر جب تجلیَ احدیت پڑتی ہے تو وہ تنہاء ہو جاتا ہے اور جب جب تجلیَ صمدیت پڑتی ہے تو مخلوق سے بے نیاز ہو جاتا ہے
پھر وہ کسی کا نہ محب رہتا ہے نہ محبوب ہوتا ہے
✍️ سیدمہتاب_عالم#
