اسلامی_طرزِتربیت 227
امام ابن الجوزی نے فرمایا
ليس من المروءة أن يُخبِر الرجل بسِنِّه لأنَّه إن كان صغيرًا استحقروه وإن كان كبيرًا استهرموه
مروت میں سے نہیں ہے کہ آدمی اپنی عمر کے بارے خبر دے کیونکہ کم عمر کو لوگ حقیر جانیں گے اور زیادہ عمر کو بوڑھا سمجھ لیں گے
❗ صفة الصفوة لابن الجوزي ❗
امام شافعی سے کسی نے پوچھا آپ کی عمر کیا ہے تو فرمایا
ليس من المرؤءة أنْ يُخْبرَ الرجل بِسِنِّه سأل رجلٌ مالكاً عنْ سِنِّهِ فقال أَقْبِل على شأنك
مروت میں سے نہیں ہے کہ آدمی اپنی عمر کے بارے بتائے ایک آدمی نے امام مالک سے ان کی عمر کے بارے سوال کیا تو امام مالک نے فرمایا اپنا کام کرو
❗ حلية الأولياء ❗
ہمارے ہاں کہا جاتا ہے کہ مرد سے اُس کی تنخواہ اور عورت سے اُس کی عمر نہ پوچھو
جبکہ اسلاف میں مرد بھی عمر بتانے سے گریز کرتے تھے
طرح اپنے مال و فکر کے بارے بتانے سے امام ابن الجوزی نے منع فرمایا
اكتم عن الناس ذهبك وذهابك ومذهبك
لوگوں سے اپنا مال اپنا سفر اور اپنی فکر و آراء چھپا کے رکھو
لوگ عمر سے فیصلہ (جج) کرتے ہیں
علم عمر رسیدہ کو جوان فکر دیتا ہے اور علم ہی جوان کو عمر رسیدہ فکر بھی دیتا ہے
آپ بذرگ عالم کو نوجوان کی طرح غزل کہتے سنیں گے اور جوان عالم کو کہنہ مشق فکر کا حامل پائیں گے
لہذا علم والوں کو عمر سے نہ پرکھیں نہ علم والوں سے عمر کے بارے سوال کریں
✍️ #سیدمہتاب_عالم
