قابلِ_تقلیدخواتین 2
وہ میاں بیوی جن کی قبروں کے درمیان دعاء قبول ہوتی ہے
مالک الجزائر کے بہترین مفکر و محقق تھے عرب دنیا کے مشہور ادیب و مصلح تھے
انکی شادی کا سبب بڑا باکمال ہے
وہ ایک کتب خانے میں جاتے اور کسی کتاب کا پوچھتے تو عموماً انکو بتایا جاتا یہ کتاب تو فلاں خاتون لے گئی ہیں
جب بار بار مالک نے اس خاتون کا نام سنا اور اسکا علمی شغف اور مطالعے کا ذوق دیکھا تو اس سے ملاقات کا ارادہ کیا
اور پھر ملاقات کے بعد ان دونوں نے باھم رضا مندی سے شادی کر لی
کیا ہی بہترین جوڑی ہوتی ہے جب میاں بیوی دونوں محقق ہوں دونوں صاحب مطالعہ ہوں دونوں علم سے متعلق ہوں
ایسے ہی مثال فقہ حنفی کے بہت بڑے عالم فقیہ امام کاسانی کی ملتی ہے
علامہ محمد بن احمد سمرقندی (متوفی 540 ھجری) کی دختر فاطمہ فقیہ عالمہ تھیں جو اپنے والد کے فتاوی جات کی تصحیح کیا کرتی تھیں
بڑے بڑے امراء حتی کہ بادشاہوں نے بھی انکے نکاح کا پیغام بھیجا
مگر علامہ سمرقندی نے کچھ جواب نہ دیا
امام سمرقندی نے فقہ حنفی پہ ایک کتاب تحفۃ الفقہاء لکھی
ان کے شاگرد امام علاء الدین کاسانی (متوفی 587 ھجری) نے اپنے استاذ کی کتاب تحفہ کی بڑی باکمال شرح لکھ دی جس کا نام بدائع صنائع رکھا
جس کو دیکھ کر کر امام سمرقندی اتنے خوش ہوئے کہ اپنی فقیہ عالمہ بیٹی کا نکاح امام کاسانی سے کر دیا
اس پر علماء نے کہا
شرح تحفتہ وزوجہ ابنتہ
کہ شاگرد نے انکی کتاب کی شرح کی اور باپ نے اپنی بیٹی کا نکاح ان سے کر دیا
اور یہی کتاب انکا حق مہر بنی
اللہ اللہ کیسے علم والے میاں بیوی تھے باپ بھی امام خاوند بھی امام اور زوجہ بھی فقیہ عالمہ
بعض اوقات یہ فقیہ امام کاسانی کی درستی کرتیں اور امام کاسانی اپنے فتوے سے انکے قول کی طرف رجوع کرتے تھے
دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو
امام اھل سنت نے جد الممتار میں لکھا ہے
ان دونوں یعنی امام کاسانی اور ان کی زوجہ محترمہ کی قبروں کے درمیان کھڑے ہو کر دعاء مانگی جائے تو قبول ہوتی ہے
کیوں نہ ہو کہ دونوں امت کے اکابر علماء میں سے ہیں
الله رب العزت کی بارگاہ میں یہ پاکیزہ میاں بیوی اتنے مقبول ہیں کہ ان کے قبروں کے درمیان دعاء رد نہیں کرتا
جب خواتین اعلی و ارفع ہوں تو ملک و قوم انتہائی بلندی پر جا پہنچتے ہیں
امام کاسانی پاؤں کے ایک مرض میں مبتلاء ہو گئے جس سے آپ کا پاوں سوج گیا
مگر آپ نے ایک دن بھی سبق پڑھانے میں ناغہ نہیں کیا وقتِ سبق لوگ آپ کو اٹھا کر لے جاتے اور آپ سبق پڑھاتے تھے
اور اسی مرض میں سلطان اجل نور الدین زنگی جو کہ امام کاسانی سے محبت ان کی تکریم کرتے آپ کی عیادت کرنے آئے تھے
اللہ اللہ کیسی اعلی سوچ کہ انتہائی مشقت کیساتھ طلبہ کرام کے پاس خود چل کر جانا
اور استغناء ایسا کہ بادشاہِ وقت کو خود چل کر آنا پڑتا اور بادشاہ ایسا کہ علماء کے پاس چل کر جانے میں عار محسوس نہیں کرتا تھا
جو دین داروں کے لیئے جھکتا ہے دنیا کے بادشاہ اس کے آگے بِچھ جاتے ہیں
آج کی خواتین کو میاں میں کیڑے نکالنے شکوہ و شکایت کرنے نیز سسرالی رشتہ داروں کی غیبت کرنے سے فرصت ملے تو فقیہہ مفتیہ بن پائے
اگر آپ خاتون ہیں تو ہدف بنا لیں میں امام کاسانی کی زوجہ کی طرح مفتیہ بنوں گی
✍️ #سیدمہتاب_عالم
