بہن کی خاطر ملک فتح کرنے والا اور اپنی ہی بہن سے نکاح کرنے والا برابر ہیں ؟
چھ رمضان کو عالَمِ اسلام کے تین عظیم واقعات رو نما ہوئے تھے
جن میں سے دو
مسلمان خواتین کی فریاد پر واقع ہوئے
پہلا عظیم کارنامہ 92 ھجری 6 رمضان میں رونما ہوا جب سندھ کی ظلمتوں سے بھری زمین سے ایک مظلوم مسلمان خاتون کا خط خلیفہ وقت کو پہنچا تھا
اس وقت سندھ کا بادشاہ اپنی ہی بہن سے نکاح کیئے بیٹھا تھا
اس ظالم و جابر و فاجر بادشاہ کو ذلت ناک شکست چھ رمضان کو ایک سترہ سالہ عربی النسل محمد بن قاسم نے دی تھی
جس کا درد آج تک سندھ قوم پرستوں کو ہے
شاید بہنوں نے نکاح کی رسم ختم کرنے کی تکلیف ان کو اب بھی ہوتی ہے
دوسرا عظیم واقعہ
223 ھجری 6 رمضان میں پیش آیا
جب عموریہ شہر سے ایک مسلمان قیدی خاتون پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھائے گئے تو اس نے اس وقت کے خلیفہ معتصم باللہ کو یوں پکارا وا معتصماہ
یہ منظر ایک مسلمان تاجر دیکھ رہا تھا اس نے بغداد جا کر معتصم باللہ کو بتایا
معتصم نے قسم اٹھائی میں اپنی اس بہن کی مدد کروں گا
اور • خود لشکر کی قیادت میں اور چھ رمضان عموریہ کو فتح کیا •
کہا جاتا ہے عموریہ کی اہمیت قسطنطنیہ جتنی تھی
یعنی وہ صلیبی دنیا میں ریڑھ کی ہڈی والی حیثیت رکھتا تھا
معلوم ہوا بندہ مومن اپنی بہن کی پکار پر سندھ بھی فتح کر لیتا ہے اور روم بھی فتح کرسکتا ہے
کہاں محمد بن قاسم اور معتصم جیسے جو اپنی بہن کی خاطر ملک فتح کر لیں اور کہاں راجہ داہر جیسے اپنی ہی بہن کو قلعے میں قید کر کے نکاح کرنے والے؟
کہاں بہن کی خاطر ملک فتح کرنے والے
اور کہاں اپنی ہی بہن سے نکاح کرنے والے
محمد بن قاسم سے ان لوگوں کو ہی تکلیف ہے جو ماں بہن کے تقدس کو پامال کرتے ہیں
تیسرا عظیم واقعہ 723 ھجری 6 رمضان میں دنیا کے سب سے امیر بادشاہ موسی منسا نے افریقہ کے بہت سے علاقے فتح شروع کیئے
اور اس سے اگلے سال حج کیا
اور راستے میں سونے کے بے شمار سکے لٹائے تھے
اتنی کثرت سے سونا لٹایا کہ سونے کی قیمت کم ہوگئی
تاریخِ اسلامی کا مطالعہ ذہن تازہ دل پختہ کرتا ہے
خود اور اپنی نسلوں کو اسلامی تاریخ پڑھائیں گے تو ہی مستقبل کی بنیاد رکھی جائے گی
“یورپ و امریکہ جو آج مہذب چوہدری بنے بیٹھے ہیں انہوں نے افریقہ کے مظلوم مسلمانوں کے خون بہائے اور ان کے ذخائر لوٹے کہ آج افریقہ کا نام سن کر جنگل و غربت ذہن میں ابھرتے ہیں جبکہ حقیقت میں دنیا بھر میں سونا و ہیرے جواہرات افریقہ سے لوٹے گئے ہیں”
اسلامی حمیت ع غیرت ہوتی تو ان سے اسلامی ملکوں سے چھینی گئی سوئی بھی نکلوا لی جاتی
سیدمہتاب_عالم# ✍️
