بر صغیر کے سنی اور عرب کے سنی

اسلامی_طرزِتربیت 109

بر صغیر کے اھلِ سنت کی ترجیحات صرف صحابہ پاک اور اولیاءِ کرام اور علماءِ عظام کے ولادت و عرس کے ایام منانے کی ہیں
جس دن یہاں بر صغیر میں کسی بزرگ کے یومِ ولادت یا عرس پاک کی وجہ سے سوشل میڈیا پر دھوم دھام ہوتی ہے
••• اُسی دن آپ عرب سوشل میڈیا کو دیکھ لیں آپ کو ایک بھی پوسٹ اس لحاظ سے نہیں ملے گی •••

جنابِ من عرب سے مراد سعودیہ نہیں بلکہ یمن , شام , عراق , مصر , الجزائر ,تیونس , جیسے سنی ممالک کی بات کر رہا ہوں
ترکی ملائشیا وغیرہ بھی اس میں شامل کر لیں

ہم یہاں بزرگان دین کے میلاد و عرس پر ان کے کچھ فضائل بیان کر کے اپنی حق و فرض ادا کر دیتے ہیں
جبکہ اگلے لمحے کسی پوسٹ پر یا عملی زندگی میں ان اسلاف کی تعلیمات کو سر عام بد تمیزی , بد تہذیبی , بد گمانی بد نظری کرتے ہوئے بھلا دیتے ہیں

حکیم الامت حضرت مولانا مفتی احمد یار خان نعیمی نے اسی لیئے فرمایا تھا

اہل سنت بہر قوالی و عرس
دیوبندی بہر تصنیفات و درس
خرچ سنی بر قبور و خانقاہ
خرچ نجدی بر علوم و درسگاہ

اھل سنت صرف عرس و قوالی کرتے نظر آتے ہیں جبکہ دیوبندی کتابیں لکھ رہے ہیں سنی قبور پر خرچ کر رہے اور وہ مدارس بنا رہے ہیں

سوشل میڈیا پر اسلاف کے میلاد و عرس منانے سے ہزار درجہ بہتر تھا کہ ان کے نام پر اتفاق کر کے مدارس بناتے اسلامی ادارے قائم کرتے

مگر نفس کو شیطان نے الہام کر دیا کہ سستے میں چھوٹ جانے کا ایک طریقہ ہے اور وہ عرس مناو اور علم و تعلیم و عمل بھول جاؤ تم بخشے جاؤ گے
اور پھر صاحبِ عرس صحابی ہو یا اھل بیت کا کوئی فرد تو پھر تو ایک دوسرے کو جلانے کے لیئے زور و شور سے تحریری سوشل میڈیائی جہاد کیا جاتا ہے

معلوم نہیں کب ہوش آئے گا

✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top