الحب_و_العشق 20
••• عشاق کے دل جہنمیوں کی کھالوں کی طرح ہیں •••
لیلی کے مجنوں نے انتہائی غضب ناک اشعار کہے
وَجَدْتُ الحبَّ نِيرَاناً تَلَظَّى
قُلوبُ الْعَاشَقِينَ لَهَا وَقودُ
میں نے محبت کو بھڑکی ہوئی آگ پایا کہ جس آگ کا ایندھن عشاق کے دل ہوتے ہیں
فلو كانت إذا احترقت تفانت
ولكن كلما احترقت تعود
کاش عشاق کے دل جل کر فناء ہو جاتے مگر جب جب عشاق کے دل جلتے ہیں دوبارہ پھر صحیح ہو جاتے ہیں
كأهْل النَّار إذْ نضِجَتْ جُلُودٌ
أُعِيدَتْ-لِلشَّقَاءِ- لَهُمْ جُلُودُ
عشاق کے دل جہنمیوں کی کھالوں کی طرح ہیں جب ان کی کھالیں جل جائیں گی تو بدبختی کی وجہ سے دوبارہ اُگ آئیں گی
قرآن کریم میں ہے کہ
جب جب جہنمیوں کی کھالیں جل سڑ جائیں گی تو دوبارہ اُگ آئیں گی
مجنوں نے اسی طرف اشارہ کیا ہے کہ
عشاق کے دلوں کو کبھی کسی صورت چین نہیں ملتا ••• کبھی لگتا ہے کہ اب سب کچھ جل کر راکھ ہوگیا ہے اب سکون آ جائے گا مگر محبوب کی یاد پھر اس راکھ کو تازہ کرتی ہے محبت دل کو دوبارہ جِلا بخشتی اور تازہ کرتی ہے •••
لیکن پھر محبوب سے فرقت آگ جلا ڈالتی ہے راکھ بنا دیتی ہے
انسان اپنی موت تک اسی طرح جلتا پھر تازہ ہوتا پھر جلتا پھر تازہ ہوتا رہتا ہے
اور کبھی کبھار تو درد سے بھی الفت ہو جاتی ہے
بقول شاعر
وہ مزہ دیا تڑپ نے کہ یہ آرزو ہے یا رب
میرے دونوں پہلوؤں میں دلِ بے قرار ہوتا
اور حسن رضا خان نے یوں کہا
میرے دل کو دردِ اُلفت وہ سکون دے الہی
میری بے قراریوں کو نہ کبھی قرار آئے
اسی جلنے پھر سنورنے جیسی اذیت کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک بذرگ نے فرمایا کہ
اگر اللہ رب العزت قیامت کے دن جنت و جہنم بھیجنے کا فیصلہ میرے سپرد کرے تو میں عشاق کو بلا حساب جنت میں بھیج دوں
کیونکہ ان کی تڑپ , ان کی جلن , ان کے سوزشِ جگر و دردِ دل کا جو پورا بدلہ بنتا ہے وہ بلا حساب جنت ہی بنتا ہے
کیونکہ یہ دل کی جلن میں دنیا و ما فیہا کی تکالیف سے غافل ہو جاتے ہیں
آپ کسی کو ایسے دردِ دل میں مبتلاء دیکھیں تو برا بھلا نہ کہیں بلکہ نجات کی دعاء کریں اور اپنے بچنے کی دعاء کریں
✍️ #سیدمہتاب_عالم
