اسلامی_طرزِتربیت 218
سیدنا یوسف علی نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام کو جب زنانِ مصر نے بہکانا چاہا تو انہوں نے دعاء کی
رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا يَدْعُونَنِي إِلَيْهِ
اے میرے رب یہ خواتین جدھر مجھے بلا رہی ہیں اس سے بہتر تو قید ہے
تفسیرِ بغوی میں اس کے تحت ہے
لو لم يقل السجن أحب إلي لم يبتل بالسجن والأولى بالمرء أن يسأل الله العافية
سیدی یوسف علیہ السلام اگر قید کا ذکر نہ فرماتے تو قید کی آزمائش میں مبتلاء نہ ہوتے
آدمی کے لئے بہتر یہ ہے کہ وہ عافیت کا سوال کرے
امام اجل احمد بن حنبل فرماتے ہیں
كُنْتُ أَحْفَظُ الْقُرْآنَ فَلَمّا طَلَبْتُ الْحَدِيثَ اشْتَغَلْتُ فَسَأَلْتُ اللَّهَ أَنْ يَمُـنَّ عَلَـيَّ بِحِفْظِهِ وَلَمْ أَقُلْ فِي عَافِيَةٍ فَمَا حَفِظْتُهُ إِلَّاّ فِي السِّجْنِ وَالْقُيُودِ فَإِذَا سَأَلْتَ اللَّهَ حَاجَةً فَقُلْ فِي عَافِيَةٍ
میں قرآن کریم حفظ کرتا تھا پھر میں نے حدیث مبارکہ حفظ کرنا شروع کی تو دعاء کی کہ الله رب العالمین حفظِ حدیث کا مجھ پر انعام کرے
میں نے عافیت کے ساتھ حفظِ حدیث کا سوال نہیں کیا تھا تو قید و بیڑیوں میں احادیث حفظ کی تو جب تم الله رب العالمین سے کسی حاجت کا سوال کرو تو عافیت کے ساتھ کرو
❗ مناقب احمد لابن الجوزی ❗
حدیثِ مبارکہ میں ہے
البلاءُ مُوَكَّلٌ بالمَنْطِقِ
بلاء بولنے پر موقوف ہوتی ہے
❗ جامع صغیر ❗
یعنی انسان جو بولتا ہے وہی ہو جاتا ہے
اکثر ایسا ہی ہوتا ہے
حدیثِ نبوی میں ہے
اللہ رب العزت فرماتا ہے
أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي
میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق فیصلہ فرماتا ہوں
❗ مسلم شریف ❗
ایک حدیثِ مبارکہ میں ہے
لا تدعوا على أنفسِكم ولا تدعوا على أولادكم ولا تدعوا على خدمكم ولا تدعوا على أموالكم لا تُوافقوا من اللهِ تعالى ساعةَ نَيلٍ فيها عطاءٌ فيستجيبَ لكم
اپنے لیئے اپنی اولاد و خدام کے لیئے اور اپنے اموال کے لیئے بد دعاء نہ کیا کرو
کوئی قبولیت کی گھڑی ہوتی ہے جس میں تمہاری دعاء قبول ہو جاتی ہے
❗ ابو داؤد شریف ❗
اپنے بچوں کو برا کہنا
بد دعائیں دینا
یا یہ کہنا یہ ایسا ہوگا ویسا ہوگا تو
یاد رکھیں
بلاء بولنے پر موقوف ہوتی
یاد رکھیں
آپ کا رب آپ کے ساتھ وہی کرے گا جو آپ اس کے ساتھ گمان رکھے بیٹھے ہیں کہ بچہ ایسا ہوگا ویسا ہوگا
یاد رکھیں
کوئی وقت قبولیت کا ہو سکتا ہے غصے میں دی گئی آپ کی بد دعاء آپ کی اولاد کو برباد کر سکتی ہے
❗ حکایت ❗
مومل بن امیل نے شعر میں کہا
شفَّ المؤمل يومَ الحيرة النَّظرُ ليتَ المؤملَ لم يُخلَقْ له بصرُ
حیرہ کے دن مومل کی نظر کمزور ہو گئی کاش مومل کی بینائی پیدا ہی نہ کی جاتی
اس کے بعد مومل اندھا ہوگیا
اس نے خواب میں دیکھا کوئی کہ رہا تھا یہ وہ ہے جو تم نے طلب کیا تھا یعنی اندھا پن
❗ معجم الادباء ❗
لہذا مزاح و مذاق میں بھی اور غضب و جلال میں بھی اپنے پیاروں میں بد دعائیں نہ دیا کریں
✍️ #سیدمہتاب_عالم
