اسلامی_طرزِتربیت 103
جو 14ویں صدی میں فرانس کا باشندہ جس کا بوریدان تھا
اس کا نام تب مشہور ہوا جب اس نے انتخاب کا مخمصہ نامی فلسفے کا تجربہ کیا
کہانی یہ ہے کہ اس نے گدھے کو کچھ دنوں کے لیئے کھانا پینا کچھ نہ دیا
پھر وہ اسے ایسی جگہ لے آیا جہاں ایک طرف چارہ اور دوسرا پانی تھا
دونوں چیزیں گدھے کے دائیں بائیں یکساں فاصلے پر تھیں
اس نے تجربے کے دوران اپنے ساتھ رہنے والوں سے پوچھا کہ گدھا پہلے کہاں جائے گا؟
کچھ نے کہا گدھا پانی کی طرف پہلے جائے گا اور کچھ نے کہا گدھا چارے کی طرف پہلے جائے گا
لیکن تعجب کی بات یہ ہوئی کہ گدھا کھڑا رہا اور اپنی جگہ سے ہلا تک نہیں
گدھا اس الجھن میں تھا کہ کہاں جانا ہے
کیونکہ اس کے لیے دونوں راستے برابر بھی تھے اور اہم تھے
کھانا اور پینا دونوں ضروری تھے
مگر ہوا یہ کہ گدھا اسی کشمکش میں بھوک و پیاس سے مر گیا کہ پانی کی طرف جاؤں یا کھانے کی طرف جاؤں
بالکل یہی صورت حال ہمارے ہاں کچھ لوگوں کی ہوتی ہے
جو دین و دنیا میں پھنس کر رہ جاتے ہیں
فیصلہ نہیں کر پاتے کہ دین کو اختیار کرنا ہے یا دنیا کو اختیار کرنا ہے
ساری زندگی اسی کشمش میں رہتے ہوئے موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں
اگر وہ عقل کا استعمال کرتے ہوئے دین کو اختیار کریں تو دنیا بھی ان کے قدموں میں آگرے
اسی طرح اس حکایت سے مزید نتائج اخذ کیئے جا سکتے ہیں کہ جب مصیبت سر پر آن پڑے تو فیصلہ جلد کرنا چاہئے فیصلے میں دیر کرنا آپکے لیئے انتہائی نقصان دہ ہو سکتا ہے
لہذا آپ بھی فیصلے میں تاخیر کے سبب گدھے کی موت نہ مریں
کوئی کام کوئی مسئلہ , مصیبت سر پر آن پڑی تو سوچیں پھر کسی صاحب رائے سے مشورہ کریں اور دو میں ایک کام کر ڈالیں ورنہ کشمش میں پھنسے رہ جائیں گے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
