اسلامی_طرزِتربیت 162
کہا جاتا ہے
ایک شہر میں حال بیچنے والا بازار تھا
جس میں کوئی بھی اپنا حال بیچ سکتا تھا اور دوسرے کا حال خرید سکتا تھا
حال حالت صحت و تندرستی دولت و فقر سکون و راحت اپنی جسامت و رنگ و روپ وغیرہ خرید بیچ سکتے تھے
مگر جو بھی وہاں جاتا بغیر خرید و فروخت کے واپس آجاتا تھا
کیونکہ وہاں لوگوں کے طرح طرح کے احوال و معاملات دیکھ کر اپنے حال پر دل سے راضی ہو جاتا تھا
کوئی غریب مالداروں کا حال نہ خریدے
کیونکہ ہزارہا پریشانیاں ایسی ایسی بیماریاں کہ غریبوں نے نام نہ سنا ہو
کوئی امیر غریبوں کا حال نہ خریدے
کیونکہ بھوک و تنگدستی جینے نہ دے
عوام بادشاہوں کے کندھوں کا بوجھ دیکھ کر عام انسان رہنا پسند کرے`
الغرض ہر حال میں الله کا شکر کریں
✍️ #سیدمہتاب_عالم
