اپنی حدود تسلیم کریں

کامیاب_خواتین 51

آج کے مَردوں میں رجولیت نہیں اور عورتوں میں انوثیت نہیں
حکماءِ اسلام نے حیلِ نساء پر عبر و قصص لکھے ہیں
کیوں ؟
اس وجہ سے کہ نقائصِ نسواں کی فہم حاصل کریں اور خود میں انوثیت پیدا کریں
مگر فیمنزم کا وباء نے اسلامی ذہن رکھنے والی عورتوں کو بھی اس نہج پر لا کھڑا کیا کہ مرد کے مقابل آ کھڑی ہوتی ہے
مروت بے شمار خوبیوں کا نام ہے اور ان خوبیوں کے مجموعے کا نام المرأۃ (عورت) رکھا گیا ہے
بہترین عورت وہ ہے جو قدرت کی تقسیم پر راضی ہو کے خود کے ناقص العقل و الدین ہونے کو تسلیم کرے اور پھر نقص کو کم کرنے کی کوشش کرے تو ایسی عورت بہت سے مَردوں سے بہتر ہو جاتی ہے
مگر جو صرف اسی بات پر جلتی کڑھتی رہے کہ میں ناقص نہیں ہوں مجھ میں حیل و مکر نہیں ہیں میں جدید معاشرے کی عورت ہوں تو وہ واقعی ناقص ہوتی ہے
یہ خواتین کے دین کا امتحان ہوتا ہے کہ جب ہر طرف مادیت پرستی کا دور دورہ ہے اور عقل کے تابع ہو کے دین کے مخالف جا کے عورت کی ہمدردی میں اسے دین کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے تو اس کیفیت مومنہ عورت کا یہ کہ دینا کہ میں واقعی ناقص العقل و الدین ہوں کیونکہ میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے تو یہ شیطان اور شیطان زادوں کے منہ پر تھوک دینا ہے
مرد اپنی ہمدردی میں شریعت کے خلاف جاتے نظر نہیں آتے مثلاً یہ نہیں کہتے کہ باپ کا مقام پہلے کیوں نہیں ہیں ؟
ماں کے قدموں تلے جنت کیوں ہے ؟
شریعت نے مردوں کو خواتین کی پرورش کا مکلف کیوں بنایا ؟
مگر خواتین یہ کہتی دیتی ہیں کہ مَردوں کو شریعت نے چھوٹ زیادہ دی ہے
یہ کھلم کھلا شریعت پر اعتراض ہے
مسلمان کا مطلب بلا چوں چراں تسلیم کرنے والا ہے
اپنے حقوق اور خود پر واجب حقوق کو تسلیم کرنے والا
اور جن کا مستحق نہیں ان کو آنکھیں بند کر کے تسلیم کرنے والا مسلمان ہے
آپ خود کو مظلوم اور کسی شے کا مستحق سمجھ کر پھر اس سے محروم ہونے کا شکوہ کر کے مسلمان نہیں رہ سکتے
لہذا اپنی حدود کو تسلیم کریں
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top