سجدہَ شعر

طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 136

سلطان العاشقین ابن الفارض عاشقانہ اشعار لکھنے میں مشہور ہیں
جب ان پر یہ شعر القاء ہوا تو طویل رقص فرمانے لگے حتی کہ کثیر پسینہ بہنے لگا حتی کہ قدموں سے خون بہنے لگا پھر زمین پر گر پڑے اور ایسے پھڑپھڑانے لگے جیسے چڑیا پھڑپھڑاتی ہے
پھر جب حالتِ سکون میں آئے تو سجدہ کیا اور کہنے لگے
مجھے ایسا شعر دیا گیا جو کسی کو نہیں دیا گیا
وہ شعر یہ ہے

وعلى تَفَنُّنِ واصِفِيه بوَصفِهِ
يَفنَى الزمانُ وفيه ما لم يُوصَفِ
محبوب کے وصف مختلف طریقوں سے بیان کرنے والے پر زمانے گزر جائیں گے مگر وہ اس کے اوصاف بیان نہیں کر سکے گا
❗ العود الھندی ❗
اسی مفہومِ محبت کو حسان الہند نے یوں بیان کیا
تیرے تو وَصف عیب تناہی سے ہیں بَری
حیراں ہُوں میرے شاہ میں کیا کیا کہوں تجھے

کہہ لے گی سب کچھ اُن کے ثناخواں کی خامُشی
چپ ہو رہا ہے کہہ کے میں کیا کیاکہوں تجھے
اردو شاعر نے کہا
زندگیاں ختم ہوئیں اور قلم ٹوٹ گئے
تیرے اوصاف کا اِک باب بھی پورا نہ ہوا

اھلِ عرب کی فطرت میں شاعری ہے اسی وجہ سے کہا گیا جو شاعری اور گھڑ سواری پسند نہ کرے اس کے عربی میں ہونے ہیں شک ہے
ادباءِ عرب کے مابین ایک اصطلاح سجدۃ الشعر بھی ہے
جب کوئی شعر پسند آتا تو وہ اٹھ کر سجدہ کرتے تھے
حسن بن رجاء کے پاس ابو تمام شاعر حاضر ہوا اور اپنا قصیدہ سنایا
جب وہ اس شعر پر پہنچا تو حسن بھی رجاء کھڑے ہو گئے اور فرمانے لگے تم پڑھو میں اسے کھڑے ہو کر سنوں گا
وہ شعر یہ ہے

تنكري عَطَل الكريم من الغنى
فالسيل حربٌ للمكان العالي
تم سخی کے مالداری کے بعد مفلس ہونے کا انکار کرتے ہو جبکہ سیلاب کے بعد بلند جگہ خالی رہ جاتی ہے
جب فرزدق کے سامنے لبید بن ابی ربیعہ کا یہ شعر پڑھا گیا
وجلا السيول عن الطلول كأنها
زبر تجد متونها أقلامها
سیلاب ٹیلوں پر سے یوں گزرا جیسے صحیفوں پر نشان مٹ کر ظاہر ہو گئے ہوں
یعنی جیسے لکھائی مٹ گئی اور کچھ آثار باقی ہوں ویسے سیلاب کے بعد اس شہر کا حال ہو گیا ہے
تو فرزدق کھڑا ہوا اور سجدہ کرنے لگا
لوگوں نے کہا یہ کیا کر رہے ہو ؟
کہنے لگا
تم صرف قرآن کریم کے سجدے پہچانتے ہو جبکہ میں اشعار کے سجدے پہنچانتا ہوں
اشعار کا ذوق
اس میں ہوتا ہے جس کی طبیعت میں نکھار فطرت میں سدھار ہو
انسان دو چیزوں سے مرکب ہے ظاہر اور باطن تو ظاہر کی پہچان لباس سے اور باطن کی پہچان عقل سے اور عقل کی پہچان ذوق سے ہوتی ہے
اپ دیکھیں گے کہ عام آدمی جو بات کئی سطور میں کہتا ہے شاعر اسی بات کو پروئے موتی کی طرح پیش کر کے
دل کو گرما دیتا ہے اور انقلاب لے آتا ہے
عام بات کی نسبت شعر دل و دماغ پر جلد اور زیادہ اثر کرتا ہے اور یہ عطائے الٰہی ہوتی ہے
اسی وجہ سے اچھا شعر کہنے پر سجدہ کیا جاتا ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top