تصوف_وصوفیاء 30
یہ حضرات جان بوجھ کر ایسے کام کرتے ہیں جن کی وجہ سے عوام ان سے دور بھاگتی بلکہ بعض دفع بات مار دھاڑ تک پہنچ جاتی ہے
ابراھیم بن ادھم کا تعلق اسی قسم سے تھا
ایک بار آپ کسی شہر تشریف لائے شہر والوں کو خبر ہوئی کہ ابراھیم بن ادھم تشریف لا رہے ہیں تو وہ استقبال کے لیئے شہر سے باہر آگئے
آپ جب شہر کے پاس پہنچے تو دیکھا عوام استقبال کے لیئے کھڑی ہے
ابراھیم بن ادھم کو پہچانتا تو کوئی نہیں تھا آپ نے نفس کو کہا کہ آج تو تو خوش ہورہا ہے کہ لوگ تیرے استقبال کے لیئے آئے ہیں تجھے سزا دوں گا
جب قریب پہنچے لوگوں سے پوچھا کیوں کھڑے ہو لوگوں نے کہا اللہ کے ولی ابراھیم بن ادھم تشریف لا رہے ہیں ہم ان کے استقبال کے لیئے کھڑے ہیں
ابراھیم کہنے لگے کہ وہ تو بڑا ریاکار و گناہ گار شخص ہے تم اس کو ولی کہتے ہو
بس پھر کیا تھا لوگوں نے مارنا شروع کر دیا حتی کہ مرنے کے قریب آگئے
تبھی ایک آدمی نے پہچان لیا اور کہنے لگا یہی تو ابراھیم بن ادھم ہیں
بس پھر لوگ معافیاں مانگنے لگے
ولہذا آپ کسی صاحبِ طریقت کو دیکھیں جو ایسے کام کرتا ہے تو انکار نہ کریں نہ نام بگاڑیں مثلا فلاں بابا فلان سائیں
اللہ نے اولیاء عوام میں چھپا رکھے ہیں
کہیں انجانے میں کسی ولی کی بے ادبی نہ کر دیں
حدیثِ مبارکہ میں ہے
رُبَّ أَشْعَثَ أغبرَ مَدْفُوعٍ بالأبواب لو أَقسم على الله لَأَبَرَّهُ
بہت سے پراگندہ بال جن کو دروازوں سے دھکے دیئے جاتے ہیں اگر وہ اللہ پر قسم اٹھائیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم ضرور پوری فرماتا ہے
{مسلم شریف}
یہاں کوئی یہ نہ سمجھے کہ ہر شریعت کا باغی اس ملامتیہ گروہ میں سے ہے
بلکہ یہ نفوسِ قدسیہ شریعتِ مطہرہ کے مکمل تابع ہوتے ہیں کیونکہ ولی وہی ہوتا ہے جس پر حال شریعت کے تابع ہو
ملامتیہ ایسا کام کرتے ہیں جس سے لوگ خار کھاتے ہوں وہ شرعی گناہ نہیں کرتے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
