الحب_و_العشق 24
••• باپ کے نکاح میں بڑی بہن/ بڑے بھائی کے نکاح میں درمیانی بہن/ اور چھوٹے بھائی کے نکاح میں چھوٹی بہن •••
اعتلال القلوب میں امام خرائطی نقل کرتے ہیں
“امام حسین رضی اللہ عنہ اپنی زوجہ رباب بنت امرء القیس سے بہت شدید محبت کرتے تھے اور وہ بھی آپ سے شدت سے محبت کرتی تھیں”
یہ رباب علی اصغر کی والدہ ہیں جو کربلاء میں شہید ہوگئے تھے
امام ابن حجر نے الاصابہ میں اور امام بلاذری نے انسب الاشراف میں لکھا کہ
ان کے والد امرء القیس عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں مسلمان ہوئے اور انہوں نے اپنی ایک بیٹی محیا کا نکاح جناب مولائے کل علی المرتضی سے کیا
دوسری بیٹی سلمی کا نکاح امام حسن مجتبی سے کیا
تیسری بیٹی رباب کا نکاح شہید کربلاء سے کیا
{ یاد رکھیں شرعاً ایسے کرنا جائز ہے کیونکہ بڑی بیٹی جو مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے نکاح میں آئیں وہ حسنین کریمین کی والدہ نہیں ہیں تو ان کی بہنیں حسنین کریمین کی خالائیں بھی نہیں ہیں }
سیدہ سکینہ کہتی ہیں کہ میں نے دیکھا کہ امام حسین سیدہ رباب کو نظر بھر کر دیکھتے اور مسکراتے اور پھر بوسہ دیتے اور فرماتے
لعمری اننی لاحب دارا
تحل بھا سکینہ والرباب
میری زندگی کی قسم میں ایسے گھر سے محبت کرتا ہوں جس میں سکینہ اور رباب رہتی ہیں
احبھا وابذل فوق جھدی
ولیس لعاذل عندی عتاب
میں اس سے محبت کرتا ہوں ایسی محبت جو میری کوشش سے بڑھ کر ہے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت میرے نذدیک ملامت نہیں ہے
{شوہر کو بیوی سے ایسی ہی محبت کرنی چاہیے کہ کسی کی پرواہ نہ ہو}
جب امام حسین کی شہادت ہوئی تو یہ مدینہ آگئیں اور ابن کثیر کے مطابق وہ امام حسین ہی کی قبر مبارک پر پورا سال بیٹھی رہی اور آپ نے غم میں گھل گھل کر انتقال ہوگیا
سردارنِ قریش نے پیغامِ نکاح بھیجا مگر انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی سے رشتہ داری نہیں رکھوں گی
امام حسین کی شہادت کے بعد سیدہ رباب نے نہایت دردناک مرثیہ کہا جس میں فراقِ حسین کی تڑپ بیان کی ہے
زوجہ سے محبت کا اظہار معیوب نہیں بلکہ صلحاء و اتقیاء کا بہترین طریقہ ہے
اور پھر معلوم ہوا محبت پہ کسی کا اختیار نہیں ہے یہ بڑے بڑے شاہسواروں کو گھیرے میں لے لیتی ہے
اھل بیت و صحابہ کرام کی افعال ہمارے لئے قابل تقلید ہیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم
