اسلامی_طرزِتربیت 203
امت میں اس وقت مرد ہیں مردانگی نہیں ہے
رجل ہیں ان میں رجولیة نہیں ہے
خواتین ہیں مگر ان میں اَنُوثة یعنی (زنانہ پن)نہیں ہے
رجولة یعنی مردانگی و انوثة یعنی زنانہ پن دو طرح ہوتی ہے
رجولۃ کی ایک قسم
شکل و صورت اور اعضاءِ مردانہ و ساختِ مخصوصہ پر مشتمل ہے
اس لحاظ سے کروڑوں مرد ہیں
رجولۃ کی دوسری قسم
اخلاق و عادات, کرم و شجاعت, ہمت و حوصلہ, صبر و رضاء, دین پر پختگی و عمل, اصابتِ رائے و استقامتِ علی الدین پر مشتمل ہے
اس لحاظ سے دنیائے اسلام میں مَردوں کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے
اسی طرح خواتین میں انوثت دو طرح ہے
پہلی قسم جسمانی اعضاء کے لحاظ ہے
اس لحاظ سے خواتینِ اسلام کی کروڑوں تعداد ہے
انوثت کی دوسری
قسم حیاء, عفت,شرافت, کرامت اور اسلامی شہسوار پیدا کرنے کا جذبہ, شوہر کے سامنے بچھ جانے کی خوبی اور تربیتِ اسلامی کی ماہرہ ہونے پر مشتمل ہے
اس قسم کی تعداد اسلامی معاشرے میں انگلیوں پر شمار کی جاسکتی ہے
الله رب العزت نے قرآن کریم میں پچاس سے زیادہ مرتبہ رجولۃ کا ذکر فرمایا اور ان کی خوبیوں میں سے وعدہ وفا کرنا, پاک رہنا, تلاوت و ذکر کرنا, ایمان والا ہونا شمار فرمایا ہے
مردانگی گدھے کتے کی طرح بچے پیدا کرنے کی صلاحیت کا نام نہیں بلکہ ایمان پر ثابت رہ کر ایمانی نکتہِ نگاہ سے دنیا کو ٹکر دینے کا نام ہے
آپ چار شادیاں کر لیں پچاس بچے پیدا کر لیں مگر دینی احکام پر عمل نہ کریں حق کو حق نہ کہیں باطل کے خلاف آواز بلند نہ کریں مظلوم کے ساتھ کھڑے نہ ہوں تو مرد نہیں کھسرے ہیں
مرد حق کے ساتھ کھڑا ہونے سے مرد بنتا ہے
مذکورہ صفات کے لحاظ سے آپ خود پر غور کریں آپ میں رجولیت ہے؟
انوثت ہے؟
یا پھر مخنثیت ہے؟
✍️ #سیدمہتاب_عالم
