طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 8
••• بیداری میں دیدارِ مصطفٰی کرنے والے •••
علامہ جلال الدین سیوطی کے والد مطالعہ کر رہے تھے
اپنی حاملہ بیوی کو کہا کہ میرے کتب خانے سے فلاں کتاب اٹھا کر لاؤ
جب زوجہ وہاں پہنچی تو اسی وقت عین کتابوں کے درمیان علامہ سیوطی کی ولادت ہوگی
یوں آپ کا نام ابن الکتب (یعنی کتابوں کا بیٹا) پڑ گیا
جب آپ جوان ہوئے تو آپ نے علم دین کے حصول کے بعد اتنی کثرت سے کتابیں لکھیں کہ آپ سے پہلے کسی نے اتنی زیادہ تعداد میں کتابیں نہ لکھی تھیں
اس کثرت کی وجہ سے آپ ابو الکتب (یعنی کتابوں کے باپ) مشہور ہوگئے
علامہ سیوطی نے تقریبا 600 کتابیں ہاتھ مبارک ہاتھوں سے تصنیف فرمائی ہیں
اور تقریباً ستر مرتبہ عین بیداری کے عالم میں آپ کو جانِ عالَم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا دیدار نصیب ہوا ہے
امام سیوطی درجہَ اجتہاد پر فائز تھے
جس کی پہنچ حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ تک ہو اجتہاد اس کے لیئے مشکل نہیں رہ جاتا
{اجتہاد اس امت میں علم کا سب سے بڑا رتبہ ہے}
خصوصاً امام سیوطی احادیث کی صحت کے حوالے سے جب کسی نتیجے پر نہ پہنچ پاتے تو عین بیداری میں حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوتی اور ارشاد فرما دیتے کہ یہ میری حدیث ہے یہ میری نہیں ہے
شاید علامہ سیوطی حضوری اولیاء کرام میں سے تھے
{ حضوری اولیاء وہ جن کو ہر وقت حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوتی ہے وہ ہر وقت ذاتِ سرکار کی معیت میں رہتے ہیں }
تو ایسے کامل شخص کہ رسائی شریعت کے چشمہ تک ہوتی ہے
ان کے لیئے اجتہاد مشکل نہیں رہتا
اکابر اولیاء کرام مثلاً جنید بغدادی و ابو الحسن نوری و قشیری و جناب غوث پاک اسی قبیل سے ہیں کہ اجتہاد ان کے لیئے مشکل نہ تھا
مگر اجتہاد نہ کرنا الگ بات ہے
اللہ تعالیٰ ان کے صدقے ہمیں بھی مصطفی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار کروائے
مذکورہ واقعہ سے دو باتیں معلوم ہوئیں
اول کہ اطاعت گزار زوجہ کہ حمل کے آخری لمحات میں بھی شوہر کی بات ماننے کا جذبہ جس کی برکت سے دنیائے اسلام کا عظیم محدث پیدا ہوا
دوم علم سے محبت کرنے والے والدین ہوں تو بیٹا بھی علماء کا سردار بنے گا!
✍️ #سیدمہتاب_عالم
