درسِ نظامی کے طلباء اور مفرور طلباء کے نام

طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 9

ابن سیناء کا قول درِ انمول ہے

ہم ایسے لوگوں کی صحبت کے عذاب میں مبتلاء ہیں جو سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے سوا کسی کو ہدایت دی ہی نہیں

یقین کیجیے اب معاملہ اس سے بھی آگے بڑھ چکا ھے

جس کو صرف و نحو کی تعریف” بلاغت و منطق کے فوائد” کلام و عقائد کا فرق” احادیث کے ظاہری تعارض دفع کرنے کا علم نہیں ” تصوف و فلسفے کا فرق معلوم نہیں وہ بھی رد کرنے پہ تیار بیٹھا ہے

جہالت بڑی شرمندگی ہے مگر یہ غلاظت تب بنتی ہے جب لوگ اھلِ علم سے مکابرہ کرنے بیٹھ جائیں

ضرورت دینی کا علم نہیں
ضرورت اھل سنت کا پتا نہیں مابین اھل سنت اختلافی مسائل کا ادراک نہیں
مطالعہ کی عادت نہیں صرف گوگل سرچ سے اھل علم کو نیچا دکھانا چاہتے ہیں

درسِ نظامی سے فرار شدہ یا پانچویں چھٹے سال میں پڑھتے بچے خود کو مجاہد ملت و مفتی اعظم سمجھنے لگ گئے ہیں
کلپ سن کر وٹس اپ سے علم اخذ کر کے اپنے مطلب کی بات نکال کر مخاصمہ و مکابرہ کرنا خدمتِ دین نہیں دین میں انتشار و افتراق ہے

آپ کا وقت فضول ہو سکتا ھے علماء کا نہیں جو آپ کی بچگانہ باتوں کا رد کرتے اور جواب دیتے پھریں
لہذا خود پر اور سنیت پر رحم کریں
یہاں افسوس تب ہوتا ہے جب علماء کے استاذ بھی کلپ کلپ کھیلنا شروع کر دیتے ہیں
مخلص عالم اسلام پر رحم کرتا ہے عوام کو تشویش میں نہیں ڈالتا اگر کسی سے اختلاف ہو تو بیان کر دیں اگر نہیں مانتا حکمِ شرعی بیان کرتے ہوئے فتویٰ جاری کر دیں و بس

مد مقابل کے پیچھے اپنے بلونگڑے کھولے چھوڑ دینا دینا کی جڑوں کو کاٹنا ہے

کیا آپ میں عقل نہیں کہ جس عالم سے آپ کا نظریاتی اختلاف ہے وہ بھی اسلام کی دیوار کی ایک اینٹ ہے
کل اگر اسلام پر نطریاتی حملہ ہوا تو وہ اسلام کی صف میں آگے کھڑا ہونے والا عالم ہوگا
پھر اندرونی مسائل کو اچھال کو اسلام کی دیوار کمزور کیوں کر رہے ہیں؟
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top