ائمہ احناف کا ساداتِ کرام سے حسنِ سلوک

آلِ_رسول_محبوبِ_رسول 29

امام اعظم ابو حنیفہ آلِ رسول کے لیئے بہت زیادہ خرچ کرتے تھے
ان پر خرچ کرتے جو خلیفہ کے ظلم سے چھپے ہوتے اور ان پر بھی خرچ کرتے جو ظاہر ہوتے تھے
ایک بار امام اعظم ابو حنیفہ نے 12 ہزار درھم ایک چھپے ہوئے سید پر خرچ کیئے
امام اعظم اپنے شاگردوں کو ساداتِ کرام کی خبر گیری کا حکم دیتے تھے
{عقد الجواہر فی فضل اھل بیت النبی الطاہر }
جن پر امام اعظم نے 12 ہزار خرچ کیئے وہ امام زید بن علی تھے
اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ روز صبح فجر کی نماز کے بعد اوراد و وظائف سے فارغ ہو کر سب سے پہلا جو کام کرتے وہ محلہ سادات میں ساداتِ کرام کے گھروں پر جاتے اور دستک دے کر احوال پوچھتے , کسی کو کوئی حاجت ہوتی تو پوری فرماتے تھے
پھر واپس لوٹ کر گھر اور دیگر کام کاج دیکھتے تھے
الحمد للہ ہم سنی حنفی ہیں
ہمارے ائمہ نے عملی طریقے سے ساداتِ کرام محبت کا طریقہ بتایا ہے
اپنے گھر کے احوال دیکھنے سے پہلے ساداتِ کرام کے گھروں کی حاجتیں پوری کرتے تھے

ہمارے ائمہ کھوکھلے نعروں سے محبتِ آلِ رسول کا درس نہیں دیتے تھے

آج آپ کیا کرتے ہیں ؟
محرم الحرام ہو یا کوئی اور موسم ساداتِ کرام کو طعنے دینا اور خدمت کرنے کی بجائے روافض کے پیچھے لگ جانا ؟
ایک کام کے پیچھے سارے لگ جائیں اور دوسرا چھوڑ دیں عجب ہے
آج بھی بہت سے سنی الحمد للہ ساداتِ کرام سے محبت اور خدمت کرتے نظر آتے ہیں
اپنے ائمہ کا طریقہ اپنائیں کہ اپنے نبی کی اولاد کی مالی و جانی خدمت کریں
اپنی کمائی کا ایک حصہ ماہانہ یا سالانہ ساداتِ کرام پر خرچ کرنے کا معمول بنائیں پھر دیکھیں اس کی برکات اور حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوضات کی بھرمار کیسے ہوتی ہے
محرم الحرام میں سبیلیں لگا لیں
ربیع الاول میں جھنڈے و چراغاں کر لیں
مگر ان کے بچوں کو پوچھیں تک نہیں تو کیا آپ کا یہ عمل اخلاص والا قرار پائے گا ؟
آپ کے شہر میں سادات کرام غربت میں بستے ہوں اور آپ ان کے ماہانہ راشن کی مقدار پیسوں کی سبیل لگائیں یا چراغاں کریں یا محفل کریں قبول ہوگی ؟
آپ یوں سمجھیں
آپ کی اولاد ایک شہر میں بھوکی پیاسی ہو اسی شہر میں اس کی کی نظروں کے سامنے آپ کا دوست آپ کی سالگرہ پر لاکھوں خرچ کر دے تو آپ دوست پر خوش ہوں گے ؟
بس تو ایک مثال کافی ہے
اور عشق والوں کے لیئے عشق کافی ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top