ذاتی_مطالعہ 30
ترجمان القرآن سیدنا عبد الله بن عباس رضی الله عنھما نے ایک انجان شخص کو دیکھا تو فرمایا
یہ بندہ مجھ سے محبت کرتا ہے,
لوگوں نے پوچھا
آپ کو کیسے معلوم؟
فرمایا
کیونکہ میں اس سے محبت کرتا ہوں
روحیں لشکر کی صورت میں ایک جگہ جمع ہیں جس کی وہاں پہچان ہوئی یہاں باہم الفت ہوگئی جو وہاں انجان رہا یہاں بھی اجنبی ہے
الابانة عن شريعة الفرق الناجية
صفحہ 479
اسی میں ہے
میمون بن مہران نے فرمایا
سلمان ایک شخص سے ملے تو اسے فرمایا
کیا تم مجھے جانتے ہو؟
اس نے عرض کیا نہیں!
سلمان نے فرمایا,
لیکن میری روح تیری روح کو پہچانتی ہے
الابانة
یعنی کسی کو پہلی بار دیکھ کر بلا اختیار انسیت و الفت محسوس ہوتی ہے
ہم کبھی ملے نہیں ہوتے مگر پہلی نظر میں اپنائیت کا احساس ہوتا ہے
یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن سے عالمِ ارواح میں ہماری پہچان و ملاقات رہی ہوتی ہے
اور جن سے وہاں اکثر ملاقاتیں رہی ہوتی ہیں یہاں وہ زیادہ قریب ہوتے ہیں
وہاں کشادہ دل ملاقات ہوئی ہو تو یہاں اچھے تعلق ہوتے ہیں
اگر سرسری اور تنگی دلی سے ہوئی ہو تو یہاں مخالفت ہوتی ہے
آپ میں سے بہت سے لوگ مجھ سے وہاں مخالفت سے پیش آئے تو یہاں بھی ویسے ہی ہیں
اور بہت سے خوش دلی سے پیش آئے تو یہاں بھی ویسے ہی ہیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم
