تصوف_وصوفیاء 64« »
الله رب العالمین نے انسان کی خامیاں بیان کرنے بعد ایک قسم کو ان سے الگ فرما دیا کہ اس قسم میں یہ برائیاں نہیں ہیں
إِنَّ الْإِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوعًا إِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوعًا وَإِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ مَنُوعًا إِلَّا الْمُصَلِّينَ
بے شک انسان بڑا لالچی ہے جب اسے نقصان پہنچے تو بہت زیادہ گھبرانے والا ہے اور جب اسے بھلائی ملے تو دوسروں سے روکنے والا ہے مگر جو نمازی ہیں
یعنی نمازی ان بری عادتوں سے پاک ہیں
لالچ بے, صبری کرنا, گھبرا جانا اور خیر و بھلائی ملنے پر خود قابض ہو جانا ہے مستحقین کو حق نہ دینا یہ سب بیماریاں ان میں ہوتی ہیں جو نمازی نہیں ہوتے
قرآن کریم نے واضح نمازیوں کو ایسے امراض سے پاک بتایا ہے
دوسری جگہ فرمایا
اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِؕ
بے شک نماز بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے
یعنی اگر آپ کائنات کی تمام بھلائیاں اپنے اندر جمع کرنا چاہتے ہیں تو نماز کی پابندی کریں
آپ اگر المُرُوَّۃ سے متصف ہونا چاہتے ہیں تو نماز پر ہمیشگی کریں
اور اگر نماز کی پابندی کرنے کے باوجود بھی آپ میں لالچ و بے صبری و حق کھانا اور فحش گوئی و بے حیائی ہے تو آپ نماز درست نہیں پڑھ رہے
اب نماز آپ کی عادت بن چکی ہے جسے پڑھے بغیر آپ کو قرار نہیں آتا نماز آپ کے لیئے عبادت نہ رہی
قران کریم نے ان مومنین کو کامیاب فرمایا جو نمازوں میں خشوع والے ہیں
قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ[1] الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ
بے شک مومن کامیاب ہیں وہ جو اپنی نمازوں میں خشوع رکھتے ہیں
نماز وہی نماز ہے جس میں خشوع ہے ورنہ عادت ہے
بعض علماءِ اسلام کے نزدیک نماز میں خشوع فرض ہے جس طرح سجدہ و رکوع فرض ہیں
اگر خشوع نہیں تو نماز ادا نہیں ہوتی
الحاصل نماز اگر آپ کو بد زبانی٫ سخت کلامی٫ فحش گوئی٫ حق تلفی٫ قطع رحمی٫ بدکاری٫ دل آزاری٫ سود خوری سے نہیں روک رہی تو آپ جان لیں عادتاً نماز پڑھتے ہیں عبادتاً نہیں پڑھتے
نصِ قرآن کے مطابق نمازی لالچی بے صبرا کنجوس حق تلفی کرنے والا اور فحش گو بے حیاء نہیں ہوتا
یہی گناہ تمام گناہوں کی جڑ ہیں
نمازی ہیں تو غور کریں عادتاً ہیں یا عبادتاً ہیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم
