آپ جانتے ہیں آج کل چائنیز محدث کثرت سے کیوں ہیں؟

طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 83

مفتی و فقیہ کیوں نہیں؟
کیونکہ حدیثی کام بآسانی گوگل و شاملہ سے تلاش کر کے کاپی کر کے پیسٹ کیئے جا سکتے ہیں
جبکہ فقہی مسائل کاپی پیسٹ کے چکر سے باہر کا کام ہیں
فقہی مسائل ازبر کرنا اور تفقہ پیدا کرنا پڑتا ہے جو کہ گوگل و شاملہ کے بس کی بات نہیں ہے
اسی وجہ سے آپ دیکھیں گے گوگل کر کے شاملہ سرچ کر کے نقلی محدث بن کر رواۃ و اسناد پر بحث کرنے والے بہت ملیں
حالانکہ ان کو لفظِ رواۃ و اسناد کی صرفی تحقیق کا بھی نہیں پتا ہوگا

مگر آپ کو مفتی و فقیہ نہیں ملیں گے
اسی لیئے ان گوگلی محققین و چائنیز محدثین میں تعصب و تشدد و جہالت کی کثرت ہوتی ہے
یہ علماء و مشائخ کی پگڑیاں اچھالنا دین کا کام سمجھ کر کرتے ہیں
کیونکہ جہالت علم کی دشمن ہے
چائنہ کا مال ہے کب تک چلے گا
سرچ ٹولز نے متحدثین کی تعداد بڑھا دی فقہاء کی کم کر دی
آئے دن مجھے اس کا تجربہ ہوتا ہے کہ نیا نیا تخصص فی الحدیث کا طالبِ علم کسی روایت کو لیکر بحث شروع کر دیتا ہے جبکہ یہ مزاجِ علم کے خلاف ہے کہ آپ کسی کے پاس از خود تحقیقی مواد لیکر پہنچ جائیں
اگر کسی کی بیان کردہ روایت پر آپ کو کلام ہے اسے ایک بار آگاہ کر دیں کیونکہ آپ کے نذدیک ضعف اس کے نذدیک ضعف کو مستلزم نہیں ہو سکتا
پھر جدید سرچ ٹولز استعمال کرنے والے ان پر شیخیاں بھگارتے ہیں جو راتوں کو کتب سے پڑھتے رہے ہیں
اور یہ چیز علم کے حصول کی قدر اور علماء کی توقیر میں کمی کا سبب ہے
جدید ٹولز استعمال کرنے والے اور کتب سے علوم حاصل کرنے والوں میں گدھے گھوڑے کا فرق ہے
پہلا متحقق دوسرا محقق ہے
جدید سرچ ٹولز وہ استعمال کرے جس نے پہلے پڑھا ہو پھر جلد تلاش کے لیئے جدید ٹولز { یعنی گوگل , شاملہ وغیرہ} کا استعمال کرے تو حرج نہیں مگر جو شروع سے ہی تحقیق جدید ٹولز سے کرے مکمل کتاب پڑھنے کی بجائے مطلوبہ روایت تک پہنچ کے جائے اور محقق بننے کی کوشش کرے اصل میں وہ متحقق ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top