المزاح_و_الظرافت 55
ابو نُعیم الفضل بن دکین بہت بڑے محدث تھے
ایک شخص نے ان کے گھر کے دروازے پر دستک دی
انہوں نے پوچھا کون ؟
*کہنے لگا میں
فرمایا
میں کون؟
*باہر والا کہنے لگا آدمی ہوں” ابو نعیم الفضل بن دکین فوراً باہر آئے اور اسے بوسہ دیا پھر کہنے لگے*
مرحبا وأهلا ما ظننت أنه بقي من هذا النسل أحد
مرحبا” خوش آمدید مجھے تو لگتا تھا اس نسل [یعنی انسانوں]میں سے کوئی باقی بچا ہی نہیں
❗ سیر اعلام النبلاء ❗
جب دروازے پر جائیں آپ سے پوچھا جائے تو نام بتائیں نہ کہ بات گول مول کریں
ایسے ہی وٹس ایپ وغیرہ پر جب آپ سے نام پوچھا جائے تو اصل نام بتائیں بن یا بنت یا کنیت نہ بتائیں
مجھے خود خاص طور پر اس سے الجھن ہوتی ہے کہ آپ سے نام پوچھا گیا ہے تو وہ نام بتائیں جو والدین نے رکھا ہے اور اگر پردوں میں رہنے کا شوق ہے تو پردے میں رہیں کنیت بھی نہ بتائیں
سیدی جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آستانہ پاک پر حاضر ہوا
دستک دینے پر حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کون ؟
میں نے کہا انا یعنی میں ہوں
فرمایا
أنا أنا
میں میں یہ کیا ہے گویا کہ ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا
❗ابن حبان ❗
اپنے گھر بھی جائیں تو میں میں نہ کریں کہ وہ تو بکری کرتی ہے
اپنا نام بتائیں تاکہ اندر والے کو تشویش نہ ہو
ورنہ اگر اندر والا فضل بن دکین جیسا ہوا تو آپ کا بوسہ لے کر کہے گا مرحبا خوش آمدید یہ نسل ابھی تک موجود ہے 😅
✍️ #سیدمہتاب_عالم
