تاریخِ_اسلامی 80
جب اندلس دنیا بھر میں حسن و جمال نظافت و نفاست کا سب سے اعلی مسلمانوں کا ملک تھا
اسی دور میں یورپ کے گلی کوچے جانوروں کی گوبر لید حتی کہ انسانی پاخانے سے بھرے ہوتے تھے
گندگی سے بچنے کے لیئے یورپ کے امراء ایسے جوتے پہننے تھے
تاکہ ان کے پیر نجاست میں لتھڑ نہ جائیں اور کپڑے خراب نہ ہوں
حتی کہ یورپ کے بادشاہ سر عام گلیوں میں مُوت دیا کرتے تھے
عین اسی وقت اندلسی مسلمانوں کے عام گھروں میں دو بیت الخلاء ہوتے تھے
ایک گھر کے لوگوں کے لیے
دوسرا مہمانوں کے استعمال کے لیئے
اور تو اور غسل خانے میں استعمال کے جوتے الگ ہوتے تھے
اندلسی مسلمانوں نے یورپ کو غلاظت و گندگی سے نکالا انہیں کھانے پینے پہننے رہنے سہنے کس ڈھنگ سکھایا مفتوحہ علاقوں کو غلام نہیں بنایا بلکہ اپنا وطن بنا کر سجایا سنوارا
مگر نمک حرام یورپین نے جب سب کچھ سیکھ لیا تو مسلمانوں کو وہاں سے نکال دیا
اس میں مسلمانوں کی عیاشیاں سہل پسندیاں نا اتفاقیاں اور باہم لڑائیاں بنیادی عوامل تھیں!
اس بات کا اقرار غیر جانبدار یورپی مورخین نے کھل کر کیا ہے کہ موجودہ یورپ میں جو صفائی ستھرائی اور ترقی نظر آتی ہے اس میں اندلسی مسلمانوں کا بنیادی ہاتھ ہے
یہ ثابت کرنے کے لیئے باقاعدہ اس پر انگریزوں نے کتب بھی لکھی ہیں کالمز لکھے ہیں
دنیا کو جدید بنانے والے مسلمان تھے اور یاد رکھیں دنیا کو موجودہ پستی اور حیوانیت سے نکالنے والے بھی مسلمان ہی ہوں گے
یہ ملت بے آسرا نہیں ہے
اس ملت سے غلبے کا وعدہ ہے
اس ملت سے فتح کا وعدہ ہے
اس ملت سے مغلوب نہ ہونے کا وعدہ ہے
اس ملت کو سب سے اعلی کرنے کا وعدہ ہے
بس وعدہ آنے کا انتظار کریں
سیدمہتاب_عالم# ✍️

