تاریخِ_اسلامی 52
مروج الذھب میں مسعودی نے اور اشراف الانساب میں بلاذری نے لکھا کہ
یزید گانے بجانے کا شوقین تھا حتی کہ اس کے زمانے میں مکہ پاک اور مدینہ پاک میں گانے باجے شروع ہو گئے تھے
اور یذید کتے اور بندر پالنے کا شوقین تھا
° اس نے اپنے بندر کا نام ابو قیس رکھا ہوا تھا °
اور وہ کہا کرتا تھا کہ یہ بنی اسرائیل کا بوڑھا شخص تھا جو مسخ کر دیا تھا
یذید پلید اس بندر کو خصوصی مقام دیتا تھا حتی کہ اس کو اپنی مجالس میں ساتھ رکھتا تھا
اور نبیذ پلاتا تھا یعنی بندر کے ساتھ پینے پلانے کا دور چلتا تھا
اس بندر کو تکیہ پیش کیا جاتا تھا اس بندر کو سرخ اور پیلی رنگ کی ریشمی چادریں پہنائی جاتی تھی
{ اھلِ علم جانتے ہیں تکیہ پیش کرنا عربوں کے ہاں انتہائی تعظیم و تکریم ہے }
اور اس بندر کے سر پر ریشم کی بنی مختلف رنگوں سے بنی ٹوپی پہنائی جاتی تھی
یزید پلید اس بندر کو جنگلی گدھی پر سوار کرتا تھا یعنی اس بندر صاحب کے لیئے ایک خاص سواری تھی
انساب الاشراف میں بلاذری نے لکھا
مجھے ایک شامی بذرگ نے بتایا کہ
یزید اس بندر کو گدھی پر بٹھا رہا تھا اس وقت یزید پلید نشے میں تھا تو گدھی پر سوار ہونے کی کوشش میں گر گیا یذید پلید کی گردن ٹوٹ گئی یوں وہ مر گیا
یذید امرد پسند بھی تھا
° مگر ان سب باتوں کے باجود جنابِ کاتبِ وحی امیر المومنین مومنوں کے ماموں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اس پلید سے بری ہیں °
جس کے دل میں یزید پلید کی محبت ہو واللہ وہ ایمان کی کی حلاوت نہیں پا سکتا
اور جس کے دل امیر معاویہ کا بغض ہو واللہ وہ بھی ایمان کی مٹھاس نہیں پا سکے گا
یذید کے بد اعمال سے امیر معاویہ کو کچھ نقصان نہیں اور امیر معاویہ کی برکت یذید پلید کے حصے میں نہیں آئی
اھلِ سنت کا ہے بیڑہ پار اصحابِ رسول
نجم ہیں! اور ناؤ ہے عترت رسول اللہ کی
صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم.
سیدمہتاب_عالم# ✍️
