ہمارے دور کے نقلی ابن حجر و جاہل طحاوی

طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 15

••• خدا کے واسطے اسلام اور مسلمانوں پر رحم کرے •••

کہا جاتا ہے
علامہ سعد الدین تفتازانی ایک بار بادشاہ کے ساتھ پہاڑ پر بنے گھر میں موجود تھے کہ اچانک زور دار طوفان موسلادھار بارش اور بجلیاں کڑکنے لگیں

علامہ سعد کھڑے ہوگئے اور بے چینی سے ادھر ادھر چلنے لگے

بادشاہ نے کچھ دیر صبر کیا اور پھر کہ ہی دیا
آپ اتنے بڑے عالم ہیں اور موت سے ڈر رہے ہیں؟

یہ ایک عالم کی شان نہیں ہے؟
علامہ سعد نے فرمایا

اے بادشاہ اگر آپ مر گئے تو آپکی رعایا کل ہی نیا بادشاہ بنا لے گی
اور اگر مجھے کچھ ہوا تو یقین کریں سعد الدین بننے میں چالیس سال لگ جائیں گے
یعنی امت ایک بڑے عالم سے محروم ہو جائے گی

کیونکہ
موت العالم موت العالم
ایک عالم کی موت پورے جہان کی موت ہے

علامہ سعد کمال شخصیت ہیں بڑے بڑے علماء میں سے یہ واحد شخصیت ہیں کہ جن کی تقریبا پانچ کتابیں درس نظامی میں پڑھائی جاتی ہیں

علامہ سعد نے حق فرمایا آج ھم دیکھ لیں کہ ہماری آنکھوں کے سامنے کئی علماء اس دنیا سے چلے گئے مگر ان کا ہمسر , ان جیسا کوئی پیدا نہ ہوا

اور یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے کہ علم اٹھ جائے گا یعنی علماء وفات پاتے جائیں گے ان جیسا پھر نہیں آئے گا

اور یہ حقیقت ہے کہ اسلاف دہائیوں پر محیط مطالعہ کرتے پھر مسند افتاء و ارشاد سنبھالتے تھے

جاحظ کہ بڑا عالم ہے
کہتا ہے کہ میں نے دور طالب علمی میں اٹھارہ ہزار کتابیں پڑھی ہیں

ابن جوزی کہ عظیم محدث ہیں زمانہ طالب علمی میں گھر سے نکلتے ہی مدرسے کی طرف دوڑ کر جاتے کہ پیدل آہستہ جانے میں وقت ضائع ہوگا جلدی جاکر کچھ مطالعہ کر لوں

مگر آج کے چھوکرے خود کے ناموں کے ساتھ اشعری ماتریدی عسقلانی طحاوی ابن حجر غزالی رازی کے سابقے لاحقے ملا کر خود اصل بلکہ اصل سے بھی افضل سمجھتے ہیں

اور حقیقت دیکھی جائے تو جناب گوگل کو استاذ الکل مان کر وہاں سے سرچ کرتے اور کاپی کر کے پیسٹ کر دیتے ہیں
اور پھر اپنی واہ حیات تحقیقات کے بل بوتے پر اسلاف پر طعن و تشنیع کرتے نظر آتے ہیں
اور سالوں سے درس و تدریس سے وابستہ علماء کو حقیر جانتے ہیں
تمہارا گوگلی علم اصل میں جہلِ مرکب ہے اور تمہاری سمجھ صرف ٹرانسلیٹر کی محتاج ہے

اگر ان اشعری و ماتریدی سے موبائل لیکر ضروریات اھل سنت پوچھے جائیں تو سوا مشاجراتِ صحابہ کے ککھ کا نہیں پتا ہوگا
وہ بھی غلط بتائیں گے

گوگل کے عسقلانی و طحاوی کو کمرے میں بند کر کے کہا جائے کہ جتنے بھی اصولِ حدیث یاد ہیں وہ یہاں باحوالہ لکھ دیں تو ایک صفحہ بھی نہ لکھ سکیں

چائنہ کے ابن حجر کو کہا جائے کہ صرف چار احادیث سند و متن سے سنا دو تو شیطانی گوز سی آواز نکل پڑے

جدید غزالی کو کلام کی مذمت کے بارے پوچھ لیا جائے تو سوال ہی سمجھ نہ پائے

رہی بات ابن تیمیہ و ابن قیم و شوکانی وغیرہ ناموں کی
اصل تو بد تھی یہاں نقل اصل سے بھی بدتر ہے
یعنی بد سے بدنام برا
یہ اصل و نقل میں فساد والے ہیں یعنی اصل و فرع تباہ دے

یہ شہدے لوگ احساس کمتری میں مارے علماء پر تعلیاں مارنے والے اسلاف کے نام رکھ کر انکی چالیس سالہ محنتوں پر پانی پھیر رہے ہیں`
تعجب والی بات ہے
ان احساس کمتری میں مبتلاء لوگوں کو دیکھ کر مارکیٹ میں طحاویہ و غزالیہ و عسقلانیہ بھی آ چکی ہیں
خدا کا خوف کریں پہلے پڑھیں علوم و فنون کو سمجھیں علماء و فقہاء کے آداب اختیار کریں مزاجِ اسلام و حدود شرع کا لحاظ کریں
اس کے بعد تالیف و تصنیف میں قدم رکھیں
آپ کا نام ہی آپ کی پہچان ہوگا
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top