عشقِ_سیدِعالم 70
ایک نیک ہستی کا پڑوسی نہایت گناہ گار و عصیاں شعار تھا
حد سے بڑھنے والا اور سرکشی کا عادی تھا
وہ فوت ہوگیا لوگوں نے اس کا جنازہ پڑھا
رات کو اس نیک شخص نے پڑوسی کو اچھی حالت میں دیکھا تو پوچھا
تمہارے ساتھ کیا ہوا ؟
کہنے لگا
الله رب العالمین نے میرے تمام گناہ معاف فرما دیئے ہیں اور میری سرکشی سے در گزر فرمایا ہے
پوچھا کس سبب سے ؟
کہنے لگا
میں جب بھی حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مبارک لکھتا تو نہایت خوشخطی کے ساتھ لکھتا تھا اور درود پاک پڑھتا تھا
اسمِ محمد کے بے شمار اسرار ہیں
اس کا سِر ہے کہ پڑھنے والے کو چین و سکون ملتا ہے
اسی کے سر کی وجہ سے کشتیَ نوح کنارے پر لگی
اسی کے سر کی وجہ سے شیاطین سلیمان علیہ السلام کے لیئے مسخر تھے
علی نبینا و علیہم السلام
اسی مبارک نام کا سِر کون و مکاں کے ذرے ذرے میں پنہاں ہے
اقبال نے خوب کہا
قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اسمِ محمد سے اجالا کر دے
ہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہو
چمنِ دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہو
یہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو، خم بھی نہ ہو
بزمِ توحید بھی دنیا میں نہ ہو، تم بھی نہ ہو
خیمہ افلاک کا استادہ اسی نام سے ہے
نبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہے
صلی الله علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم
جب یہ نام مبارک گونجتا ہے تو ایمان والوں کے دل تعظیماً جھک جاتے ہیں
رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں
روح سرشار ہو جاتی ہے
ہمارے حضور کا نام ام الدواء ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
