طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 127
حلیۃ الاولیاء میں ہے کہ
حمدون بن احمد سے سوال ہوا
ما بال كلام السلف أنفع من كلامنا ؟
کیا بات ہے کہ پچھلے لوگوں کا کلام ہمارے کلام سے زیادہ فائدہ مند ہوتا تھا؟
فرمایا
کیونکہ اسلاف کا کلام
اسلام کی عزت کے لیئے ہوتا اور لوگوں کو گناہ سے بچانے کو اور اللہ کی رضا کے لیئے ہوتا تھا
جبکہ ہمارا کلام
اپنی عزت کے لیئے،طلب دنیا کے لیئے اور لوگوں میں مشہور ہونے کے لیئے ہوتا ہے
کتب سیر و تواریخ پڑھ لیں آپ کو اتنے مصنف و محرر سابقہ زمانوں میں نہیں ملیں گے جتنے 2010 سے 2022 تک کے درمیان پیدا ہوچکے ہیں
یعنی جب سے فیس بک وغیرہ عام ہوئی ہے
ہر بندہ محرر و مصنف بالخصوص ناقد و محقق بن گیا ہے
اتنے لکھنے والے ہونے کے باجود معاشرے میں تبدیلی کیوں نہیں؟
ہماری تحریر پر اثر کیوں نہیں؟
کیونکہ ہم اپنی واہ واہ زیادہ شیئر کمنٹ کے چکر میں لکھتے ہیں بس پھر کمنٹ شیئر مل جاتے ہیں مگر عمل ختم ہوگیا ہے
جس طرح زہر میں بجھا تیر جسم پر لگے تو جان لیتا ہے ویسے ہی عمل میں گندھی تحریر کا تیر روح کو جگا دیتا ہے
تحریر لکھیں کچھ دیر صبر کریں
اور اپنے آپ کو پرکھیں
اگر نفسانی خواہش کا ذرہ بھی موجود ہو تو لکھی لکھائی مکمل تحریر کو ڈیلیٹ کر دیں
نفس پر گراں گزرے گا دو چار بار ایسا کریں گے تو نیت کی اصلاح خود ہو جائے گی
اس طرح تحریر موثر ہوگی اور امت کو فائدہ پہنچے گا
✍️ #سیدمہتاب_عالم
