تاریخِ_اسلامی 81
عثمانی دورِ سلطنت میں
گھر کے باہری دروازے پر دو کنڈیاں لگائی جاتی تھیں
ایک وزنی دوسری ہلکی
وزنی مرد حضرات کھٹکھٹایا کرتے اور ہلکی خواتین
گھر کے دروازے پر جب بھاری آواز آتی تو باہر مرد جاتے
اور ہلکی ہوتی تو خواتین جاتی تھیں کہ دروازے پر کوئی خاتون آئی ہے
یہ حیاء یہ نظام قوم سے وجود میں آتا ہے
جبکہ ہم قوم نہیں ہجوم ہیں
ہماری نہ تاریخ ہے نہ تہذیب نہ روایات نہ ثقافت
سندھی راجہ داہر کے ثقافت مناتے ہیں
پنجابی سکھوں کی مناتے ہیں
اور نام لوک یا ورثہ قرار دیتے ہیں
مگر شرم سے ڈوب نہیں مرتے کہ اسلامی تہوار ہوتے ہوئے مقامی تہوار کی حاجت کیوں؟
ان کے دل اسی زمانہ جاہلیت کی طرف دوڑتے ہیں جہاں ظلم و کفر کا نظام رائج تھا
ہم اب تک صوبائیت لسانیت قومیت میں لتھڑے پڑے ہیں
جب تک صحیح معنوں میں اسلام نہیں اوڑھیں گے اندر سے قومیت و لسانیت کی غلاظت نہیں نکلے گی
سیدمہتاب_عالم# ✍️
