ہلاکو خان نے اصل بادشاہ کسے تسلیم کیا

عشقِ_سیدِ_عالم 47

اپنی طبیعت کی صفائی ستھرائی پہچاننے کا طریقہ

تفسیر بحر المحیط جلد 8 میں ہے
ظالم بادشاہ ھلاکو خان نے پوچھا
بادشاہ کون ہے؟
لوگوں نے کہا تم ہی بادشاہ ہو جس کے سامنے بادشاہوں نے اپنی گردنیں جھکا دی ہیں
کہنے لگا
!نہیں
منارے پر اذان دیتے ہوئے مؤذن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا بلکہ • بادشاہ تو یہ ہے جس کے وصال کو چھ سو سال گزر گئے مگر اس کا ذکر آج بھی مناروں پر دن میں پانچ بار لیا جاتا ہے •
اس کی مراد حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارکہ تھی
یعنی اصل بادشاہت تو ان کی ہے جن کو دنیا سے تشریف لے گئے چھ سو سال ہو گئے ہیں مگر ہر قریہ بستی, شہر و ملک میں ہر دن پانچ بار نام پکارا جاتا ہے

عرش پہ تازہ چھیڑ چھاڑ فرش میں طرفہ دُھوم دَھام
کان جِدھر لگائیے تیری ہی داستان ہے

دنیا کے بادشاہوں کے سامنے عوام کی ظاہری گردنیں جھکی ہیں مگر ان صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے شہنشاہوں کے دل جھکے ہوئے ہیں

تیرے بے دام کے بندے ہیں رئیسانِ عجم
تیرے بے دام کے بندی ہیں ہزارانِ عرب

اسپین کے بادشاہ Alfonso X El Sabio (اس کا زمانہ 1221 سے 1284 تک کا ہے) اس کے بارے آتا ہے اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر ایک کتاب لکھی تھی
اسے حکیم یعنی دانا کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے
یہ بادشاہ عربی زبان کا دلدادہ تھا
بہت سے غیر مسلم غیر جانبدار شعراء نے حضور کی شان میں قصیدے لکھے غیر مسلم مفکرین نے حضور کی شان میں کتابیں لکھی
یعنی روئے زمین پر کوئی بھی سلیم الطبع انسان ایسا نہیں ہوسکتا جس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پڑھی ہو اور وہ آپ سے محبت نہ کرتا ہو

بد طینت اور بد فطرت کی بات ہی نہیں ہے
اور جو جتنی ستھری طبیعت والا ہوگا اتنی ہی محبت کرنے والا ہوگا
اس مبارک ذات کی محبت اسی دل میں سمائے گی جہاں دنیاوی آلائشیں و گندگیاں نہیں ہوں گی
اپنی طبعیت کی صفائی و ستھرائی کو پہچاننا ہے تو اُن صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کی مقدار دیکھ لیں
سیدمہتاب_عالم# ✍️

Scroll to Top