گناہ اور نیکی کی تاثیر کو سمجھیں

اسلامی_طرزِتربیت 29

ہر گناہ کی الگ تاثیر ہوتی ہے
اسی طرح ہر نیکی کی الگ تاثیر ہوتی ہے

گناہ اور نیکی جوڑے ہوتے ہیں یعنی ہر گناہ کو ایک خاص نیکی مٹاتی ہے اس گناہ کا اثر زائل کرتی ہے

یہ بڑا نفیس نکتہ ہے
قرآن کریم میں واضح ہے

اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّاٰتِؕ
بے شک نیکیاں گناہوں کو مٹا دیتی ہیں

(1) والدین کی نافرمانی
رزق کی برکت چھین لیتی ہے
اور ان کی اطاعت رزق میں برکت دیتی ہے

صدقہ دینے سے برکت ہوتی ہے

(2) سود کھانا
چہرے کو بگاڑتا ہے
درود شریف چہرے کو تازہ کرتا ہے

(3) بد نگاہی
عبادت کی لذت چھین لے جاتی ہے نماز میں دل نہیں لگتا
اس کا توڑ بھوک ہے
جو بد نگاہی سے باز رہتا ہے اسے عبادت کی مٹھاس محسوس ہوتی ہے

(4) ظلم
بری موت کا سبب ہے بسا اوقات کفر پہ خاتمے کا سبب ہوتا ہے
اور صدقہ بری موت کو ٹالتا ہے

(5) فضول بولنا
دل کو مردہ کر دیتا ہے
اور سوکھی روٹی کھانے سے دل زندہ ہوتا ہے

اپنی زندگی پر غور کریں کوئی گناہ سرزد ہو جائے تو اس کی تاثیر سمجھنے کی کوشش کریں ورنہ کسی صاحبِ نظر و صاحبِ علم سے گناہوں کی تاثیر پوچھیں

اور پھر جو بھی گناہ سرزد ہو اس کی تاثیر مٹانے والی نیکی فوری کر لیں ورنہ دل میں سیاہی بڑھتی جائے گی
اور ایک وقت آئے گا دل سیاہ مردہ ہو جائے گا

اگر آپ گناہوں کی تاثیر مٹانے والی نیکی نہیں جان پا رہے تو استغفار, درود شریف اور تسبیحات کثرت سے کریں
یہ تین ہر گناہ کی ہر تاثیر کو مٹا دیتے ہیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top