کیا آپ ایمان کی حالت میں مرنا چاہتے ہیں

طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 145

موجودہ دور میں علمی انحطاط, علم کی بے نوری , علم کی روح سے خالی علم , علمِ غیرِ نافع کی کثرت کی بڑی وجہ پتا کیا ہے ؟

صرف رد کے لیئے پڑھنا

رد کے لیئے مطالعہ کرنا

رد در رد کے لیئے تحقیق کرنا

راتوں کو رد کے لیئے جاگنا

شہروں کا سفر رد کے لیئے کرنا

کتب کی ورق گردانی صرف رد کرنے کے لیئے کرنا

کیا علم صرف رد کا نام ہے ؟

جسے رد کا مرض ہو عموماً وہ گستاخ و بے ادب بن جاتا ہے
آپ غور کریں کچھ لوگ فقہی و تفسیری و حدیثی و اصلاحی تحاریر نشر کرنے کی بجائے ہمیشہ اختلافی موضوعات پر لکھتے ہیں
ان کو پڑھنے والوں میں کسی میں صحابہ کرام کے متعلق سخت رویہ بن جاتا ہے تو کسی میں اھلِ بیت کے متعلق عامیانہ پن پیدا ہو جاتا ہے
صرف رد کے لیئے علم پڑھنا حرام ہے
حدیثِ مبارکہ میں ہے
من تعلم العلم ليباهي به العلماء أو يماري به السفهاء أو يصرف به وجوه الناس إليه أدخله الله جهنم
جو علم اس لیئے سیکھے کہ علماء کے سامنے فخر کرے یا بیوقوفوں سے مناظرے کرے یا لوگوں کے چہرے اپنی طرف پھیرے تو الله رب العزت اسے جہنم میں داخل فرما دے گا

ایک روایت میں ہے
مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ لِيُجَارِيَ بِهِ الْعُلَمَاءَ
جس علماء کی برابری کرنے کے لیئے علم طلب کرے اس کا انجام جہنم ہے
❗ ابن ماجہ شریف ❗

آپ کو اپنا ایمان قیمتی لگتا ہے ؟
آپ خالص مومن مرنا چاہتے ہیں ؟
آپ اس حال میں مرنا چاہتے ہیں کہ کسی صحابی کسی اھلِ بیت کے فرد کا بغض و کینہ آپ کے دل میں نہ ہو اور جب حضور سیدِ عالم صلی الله علیہ وآلہ واصحابہ وسلم سے سامنا ہو تو آپ کا دل اھلِ بیت و صحابہ کرام کے بغض سے پاک ہو تو ایسے وٹس ایپ گروپس, چینل , فیسبک پیجز چھوڑ دیں جن میں رد کا کام ہوتا ہے
میں اپنی زندگی کے باریک مشاہدے میں ایک عرض کروں
جو ہمیشہ دفاعِ صحابہ کرتا ہے عموماً گستاخِ اھلِ بیت بن جاتا ہے آپ کبھی نہیں دیکھیں گے وہ دفاعِ اھلِ بیت کرتا ہو
جو دفاعِ اھلِ بیت کے نام پر کام کرتا ہے وہ گستاخِ صحابہ بن جاتا ہے آپ کبھی اسے صحابہ کرام کا دفاع کرتے نہیں دیکھیں گے
آپ ان میں سے کسی ایک کے گروپ میں ہمیشہ ایک جانب کا دفاع سنیں گے تو دوسری جانب کو ہلکا سمجھنا شروع کر دیں گے
اِن شیطان کے پٹھوں کے گروپس و چینل آپ کے دلوں میں اسلام کی بنیاد اھلِ بیت اطہار و صحابہ کرام کے متعلق عامیانہ پن پیدا کر دیں گے
لا یعنی ابحاث بے کار اختلاف فتنہ انگیز تحقیقات اسلام کی کمزوری میں مزید کمزوری پیدا کرنا ہے اور یہ لوگ جانے انجانے میں اسلام کو کمزور کر رہے ہیں
اور تعجب کی بات ہے اس لہر میں شیوخ الحدیث و مفتیانِ کرام کہلانے والے بھی پیچھے نہیں رہتے جو ہر آنے والے فتنے میں تحریر لکھ کے مزید تقسیم پیدا کرتے ہیں جبکہ ان کو خوب معلوم ہے کہ عوامی فتنے میں خواص کا دخل کتنا زیادہ نقصان دیتا ہے

شاید یہ شہرت کا مرض ہے اس پہ دلیل یہ سمجھ لیں کہ یہ مفتیانِ کرام دار الافتاء سے وابستہ ہیں مگر فتویٰ جاری نہیں کریں گے کیونکہ فتویٰ عوام کہاں پڑھتی ہے اور فتوے میں مرچ مصالحہ نہیں لگایا جا سکتا تو یہ تحریر لکھ کے یہ شوق پورا کر لیتے ہیں
جبکہ ایک مفتی کو محتاط غیر جانبدار اور جہاں دیدہ ہونا چاہیے
جب سے اھلِ علم مخالف کو کتابوں میں جواب دینے کی بجائے کلپ کلپ اور تحریر تحریر کھیلنا شروع ہوئے فتنے بڑھ گئے ہیں
زمانے میں فتنوں کے پھیلاؤ کا ایک سبب کتابوں میں جواب نہ دینا ہے
تحریر ایک نشست میں بیٹھ کر بھڑاس نکالنے میں معاون ہوتی ہے جبکہ تصنیف سالوں کی محنت اور تحقیقی کام ہوتا ہے تو کام چور کتابوں میں رد کرنے کی بجائے سوشل میڈیا پر لے آئے ہیں
بہر حال سوشل میڈیا پہ اختلافی موضوعات پر تحاریر لکھنا زمانے کے فتنوں میں سے ایک فتنہ ہے
اس فتنے سے بچیں اور ایسے فتنہ گروں سے دور رہیں آپ کا ایمان محفوظ رہے گا
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top