کن علماء کی صحبت سے بچیں

تصوف_و_صوفیاء 88

سیدی سہل تستری فرماتے ہیں
احذر صحبةَ ثلاثٍ مِنْ أصنافِ الناس الجبابرة الغافلين والقُرَّاء المُداهنين والمُتصوِّفة الجاهلين
تین قسم کے لوگوں کی صحبت سے بچو
• سخت دل غافل
• سستی کرنے والے قراء
• جاہل صوفیاء

امام ابن عجيبة فرماتے ہیں شیخ زروق نے عالمِ ظاہر کا اضافہ فرمایا ہے
یعنی اس سے بھی بچا جائے کیونکہ عالمِ ظاہر پر نفسانیت کا غلبہ ہوتا ہے
امام ابن عجيبة فرماتے ہیں
میں کہتا ہوں
ان علماءِ ظاہر کے پاس بیٹھنا ستر عام جاہل لوگوں اور جاہل فقیر کے پاس بیٹھنے سے زیادہ برا ہے
کیونکہ یہ صرف شریعت کا ظاہر دیکھتے ہیں اور جو شریعت کے ظاہر میں ان سے اختلاف کرے اسے خاطی و گمراہ جانتے ہیں تو پھر اس کی رد میں کوشش کرتے ہیں
جو صرف ظاہر کا علم حاصل کرتا ہے خشک و بے نور ہو جاتا ہے
اس کی وجہ علم کا ہونا نہیں بلکہ علم میں باطنی بیماریوں سے نہ بچنا اور ذکرِ الٰہی نہ کرنا ہے
کیونکہ ظاہری گناہ ایک جگہ کیا جاتا ہے پھر وہیں چھوڑ دیا جاتا ہے مثلا جھوٹ , قتل و زنا وغیرہ جبکہ باطنی گناہ انسان اندر چھپا کے رکھتا ہے مثلاً تکبر و حبِ جاہ و کینہ و محبتِ دنیا وغیرہ
اور پھر جس جد و جہد میں ذکرِ الٰہی نہ ہو وہ حسرت ہی حسرت ہے
عموماً ظاہری علوم والے کثیر علم جمع کرتے ہیں مگر قلیل باطنی مہلکات سے نہیں بچ پاتے اسی وجہ سے ان کی صحبت سے بچنے کا حکم دیا ہے
دینِ اسلام میں حقیقی عالم وہ ہے جو ظاہری و باطنی علوم کا جامع ہے
*سیدی یحییٰ بن معاذ الرازی* فرماتے ہیں
يا معشر العلماء دياركم هامانية ومراكبكم قاورنية وأطعمتكم فرعونية وولأئمكم جالوتية ومواسمكم جاهلية وقد
صيرتم مذاهبكم شيطانية فأين الملة المحمدية
اے علماء کے گروہ
تمہارے گھر ھامانی ہیں
تمہاری سواریاں قارونی ہیں
تمہارے کھانے فرعونی ہیں
تمہارے حکمران جالوتی ہیں
تمہارے نشان جاہلی ہیں
تم نے اپنے مذہب کو شیطانی بنا دیا ہے
بتاؤ دینِ محمدی کہاں ہے ؟

« الحكم العطائية ج ١ ص ١٣٦ »

علمِ ظاہر کا ایک وبال یہ بھی ہے کہ اختلاف کی صورت میں عناد پر اتر آتے ہیں
تفسیق و تضلیل میں جلد بازی کریں گے
دو مقصد سامنے رکھیں
° علم کی انتہاء معرفتِ الٰہی ہو
° تفسیق و تضلیل کر کے اپنے تئیں جہنم نہیں بھرنی بلکہ جنت کے خوشخبریاں سنانی ہیں
اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ کسی ایک علم پر اکتفاء نہیں کریں گے
عموماً نحو والے نحو
فقہ والے فقہ
حدیث والے حدیث پر اکتفاء کرتے ہیں اور ایک فن میں مہارت پانے کی کوشش میں زندگی گزار دیتے ہیں اور حقیقی مقصد معرفتِ الٰہی سے دور رہتے ہیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top