اسلامی_طرزِ_تربیت 231
ایک عربی دیہاتی عورت کے پاس سے گزارا اور پوچھا
کیا دودھ یا کھانا ملے گا مین خریدنا چاہتا ہوں
دیہاتی عورت کہنے لگی
إِنَّك للئيم أَو حَدِيث عهد باللئام
تم کمینے ہو یا کمینوں کے قریب ہو بھلا دودھ اور کھانا بھی بیچا جاتا ہے
اس آدمی کو عورت کا یہ کریمانہ انداز بہت پسند آیا
عورت کو پیغامِ نکاح بھیجا اور اس سے شادی کر لی
❗ نثر الدرر للآبی ❗
مجبور کو کوئی شے نہ بیچیں نہ مجبور کی مجبوری کا فائدہ اٹھائیں یہ تو کمینہ پن ہے
مسافر کی مہمان نوازی کرنا اعلی انسان کی نشانی ہے اور پھر مسافر کو دودھ یا کھانا بیچنے کی گھٹیا حرکت کرنا عربوں کے اخلاق کے خلاف تھی
مال و دولت جمع کرنے کی دوڑ نے ہمارے دیہات والوں کو بھی بے دید بنا دیا ہے حالانکہ کچھ عرصہ پہلے تک بر صغیر میں بھی دودھ بیچنا عار { بے عزتی } سمجھا جاتا تھا
اخلاقیات میں سے ہے کہ
• مجبور کی مجبوری سے فائدہ نہ اٹھایا جائے
کسی مجبور سے مکان و دوکان اونے پونے دام مت خریدیں
- مسافر انجان بھی ہو تو اس کی خوب مہمان نوازی کی جائے
- اعلی خاندان مگر پریشان آپ کے پاس آئے تو اسے شرمندگی کا احساس نہ ہونے دیں
- مخلوق کی حاجتیں پوری کرنے میں جلدی کریں اور شکر کریں کہ مالک و مولا تبارک و تعالیٰ نے اپنی مخلوق آپ کے پاس بھیجی ہے
- جس خاتون کو رواداری آتی ہو جو لین دین میں سخی طبیعت ہو وہ قابلِ عزت و احترام ہوتی ہے اور اسے عزت دی جاتی ہے عزت بنایا جاتا ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
