اسلامی_طرزِتربیت 102
ایمان پر مرنے کا نسخہَ کیمیاء
قرآن کریم میں الله قھار و جبار کا فرمان ہے
يَٰأَيُّهَا ٱلَّذِينَ آمَنُواْ لاَ تَأْكُلُواْ ٱلرِّبَٰواْ أَضْعَٰفاً مُّضَٰعَفَةً وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ وَٱتَّقُواْ ٱلنَّارَ ٱلَّتِيۤ أُعِدَّتْ لِلْكَافِرِينَ
اے ایمان والو دوگنا سود مت کھاؤ اور الله سے ڈرو یہ امید کرتے ہوئے کہ تم فلاح پاؤ اور اس آگ سے بچو جو کفار کے لیئے تیار کی گئی ہے
یہاں قرآن کریم کا اسلوب ملاحظہ کریں کہ ایمان والوں کو خطاب ہے پھر ایمان والوں کو ہی ڈرایا کہ اس آگ بچو جو کفار کے لیئے تیار کی گئی ہے
آگ کفار کے لیئے بنائی گئی اور ڈرایا مومنوں کو جا رہا ہے
اس کی خاص حکمت ہے
امام اجل عالم باعمل امام اھلِ اسلام و امام اھل سنت ولی کامل و محدث کامل احمد بن حنبل
ایک بڑی لاجواب حدیث بیان کرتے ہیں
لو أن رجلا يجر على وجهه من يوم ولد إلى يوم يموت هرما في مرضاة الله تعالى لحقره يوم القيامة
اگر آدمی پیدا ہوتے ہی زمین پر چہرے کے بل گر جائے اور عبادت شروع کرے یہاں تک کہ اس کو موت آجائے وہ اللہ تعالیٰ کی رضا تلاش کرنے میں بوڑھا ہو جائے تب بھی قیامت کے دن اپنی ساری محنت و عبادت کو حقیر جانے گا
اور ہم کہ کچھ نہ کر کے بھی کہتے ہیں اللہ تعالیٰ رحمن ہے رحیم ہے مگر یہ بھول جاتے ہیں وہ قہار و جبار بھی ہے
اللہ رب العزت کی خفیہ تدبیر سے غافل ہونا کبیرہ گناہ ہے
اس کے غضب کو بھول جانا کبیرہ گناہ ہے
اس کی رحمت کے سہارے اس کے جلال کو بھول کر گناہ کرنا برے خاتمے کا سبب ہے
یہی نکتہ ہے کہ کفار کے لیئے تیار کی گئی جہنم سے مسلمانوں کو ڈرایا جا رہا ہے
کیونکہ کفار خفیہ تدبیر سے غافل بلکہ منکر ہیں تو ان سا عمل کر کے ان کے ٹھکانے میں نہ جائیں
ایک بذرگ سے کسی نے پوچھا اللہ ربّ العزت سے کب ڈرنا اور کب امید رکھنی چاہئے
فرمایا
جب تک زندگی ہے بندہ خدا تعالیٰ سے ڈرتا رہے اور جب موت کا وقت آئے تو اس وقت امید اچھی ہے
جبکہ جاہل لوگ زنا , چوری , غیبت , بہتان , جھوٹ , حق مارنا , دل آزاری کرنا سب کر لیتے ہیں جب منع کیا جائے تو کہ دیا جاتا ہے اللہ معاف کرنے والا ہے
یاد رکھیں یہ بہت بڑی بیباکی بلکہ رب العالمین کی بارگاہ میں گستاخی ہے
نفس کے ہاتھوں مجبور ہوکر گناہ کرنا انسان کی طبیعت و فطرت ہے مگر اس کے بعد ڈھٹائی دکھانا اور رب العزت کے غضب کو بھول جانا شیطانی خصلت ہے
“گناہ ہونا بڑی بات نہیں اس پر جم جانا اور اللہ قہار و جبار کے غضب کو بھول جانا بہت بڑی حماقت ہے “
امام ابواللیث السمرقندی فرماتے ہیں
اتقوا العمل الذي ينزع منكم الإيمان فتستوجبوا النار لأن من الذنوب ما يستوجب به نزع الإيمان
اس عمل سے بچو جو تم سے ایمان چھین لے اور تم جہنم کے حقدار بن جاؤ کیونکہ بعض گناہ ایسے ہیں جن کے سبب ایمان چِھن جاتا ہے
❗تفسیر سمرقندی للامام ابی اللیث ❗
مزید فرمایا
جن گناہوں سے ایمان چھین لیا جاتا ہے ان میں سے والدین کی نافرمانی بھی ہے
روایت میں آیا ایک شخص جس کا نام علقمہ تھا اخری وقت کلمہ نہیں پڑھ پا رہا تھا حتی کہ اس کی والدہ آئی اس نے ماں کو راضی کیا پھر زبان پر کلمہ طیبہ جاری ہوا
اور مزید وہ گناہ جن سے کفر پر موت کا ڈر ہوتا ہے
ذی رحم سے تعلق توڑنا ہے
(ذی رحم سے مراد چچا.پھوپھی.بھائی.بہن.چچا زاد خالہ زاد پھوپھی زاد وغیرہ سب شامل ہیں)
سود کھانا کفر پر موت کا سبب ہے
امانت میں خیانت موت کے وقت کفر کا سبب ہے
ابو بکر الوراق نے امام اعظم سے روایت کیا کہ
سب سے بڑی چیز جو ایمان چھین لیتی ہے وہ بندوں پر ظلم کرنا ہے
❗تفسیر سمرقندی ❗
ظلم کا معنی صرف تھپڑ مکے مارنا نہیں ہے
زمین کا حق نہ دینا
مزدور کی مزدوری وقت پر نہ دینا یا کم دینا
اپنے سے کم مرتبہ کو گالی گلوچ کرنا بے عزتی کرنا
ملازم کی عزتِ نفس کا لحاظ نہ کرنا
الغرض حقدار کو اس کا حق نہ دینا ظلم ہے
اعلی مقام والے کو گھٹیا مقام دینا اور کمی کو بلند کر دینا ظلم ہے
رشوت, بھتہ, چھینا جھپٹی کرنا , چوری ڈاکہ ظلم ہیں
نا اھل کو منصب و مقام دینا ظلم ہے
اھل کو مقام و منصب سے اتارنا ظلم ہے
ایک اہم بات یاد رکھیں
ایمان اچانک نہیں چھینا جاتا بلکہ پہلے ایمان کا نور مدھم ہونا شروع ہوتا ہے جس کا اثر بندے کے چہرے پر ظاہر ہوتا ہے
ایک بزرگ شیشے میں دیکھتے اور کہتے الله کا شکر ہے آج میرا چہرہ مسخ ہو کے بندر و سور جیسا نہیں ہوا
ایمان کا نور دل سے ختم ہونا شروع ہو تو چہرے سے رونق ختم ہونا شروع ہو جاتی ہے
نیکی کے کام اور دیندار لوگ بوجھ لگنا شروع ہو جاتے ہیں
نماز روزہ حج زکوٰۃ (مالی و بدنی عبادات) بھاری لگنا شروع ہو جاتی ہیں
نیکی سے دل بھاگتا اور گناہ کی طرف مائل ہوتا ہے
پھر اپنے دور کے علماء کرام و دین دار طبقے کو حقیر سمجھنے لگتا ہے پھر پہلے دور کے علماء پر زبان دار ہوتا ہے پھر ائمہ دین پر پھر تابعین عظام پر پھر صحابہ کرام پر بکنا شروع ہوجاتا ہے اور پھر اسلام کے اصل و قواعد کو اپنی عقل سے رد کرنا شروع کرتا ہے یوں ایمان سے نکل جاتا ہے
اب مزید کچھ ایسے اسباب بیان کرتا ہوں جن کے بارے علماء کرام نے فرمایا کہ ان گناہوں کی نحوست سے بندے کا ایمان ختم ہو سکتا ہے
(1)اذان کے وقت گفتگو کرنا برے خاتمے کا سبب ہے
(2)دنیا کو دین پر ترجیح دینا کفر پر موت کا سبب ہے
(3)دنیا کو آخرت پر فوقیت دینا کفر پر خاتمے کا سبب ہے
(4)علماء و طلباء کی اہانت و تحقیر برے خاتمے کا سبب ہے
(5)اولیاء کرام سے بغض برے خاتمے کا سبب ہے
(6)صحابہ کرام سے دوری برے خاتمے کا سبب ہے
(7)علومِ دینیہ پہ علوم دنیا کو ترجیح دینا برے خاتمے کا سبب ہے
(8)شعائر اللہ کی تعظیم میں غفلت برتنا کفر پہ موت کا سبب ہے
(9)دین کو اپنی عقل کے مطابق سمجھنے کی کوشش کرنا الحاد کا سبب ہے
(10)جہاد و مجاہدین کو ہلکا سمجھنا کفر پہ خاتمے کا سبب ہے
(11)ایک پیر کامل کی بیعت توڑ کر دوسرے کی بیعت کرنا یہ بھی کفر پہ خاتمے کا سبب بن سکتا ہے
(12)مسلمانوں کے لئیے سینہ تنگ رکھنا اور بغض رکھنا بھی کفر پہ موت کا سبب ہے
اللہ تعالیٰ ھمارا ھمارے والدین کا اساتذہ کا دوست و احباب کا جاننے والوں کا ایمان پر خاتمہ فرمائے
اور ہمیں جنت الفردوس میں ایک ساتھ جمع فرمائے
آخر میں ایمان پر خاتمے کا نسخہ عرض کر دیتا ہوں
جو صبح و شام یہ کلمات تین تین بار سمجھ کر پڑھے گا ان شاءاللہ اس کا خاتمہ ایمان پر ہوگا
رَضِیتُ باللہِ رَباً و الاسلام دیناً و بمحمدٍ نبیاً
میں الله کے رب ہونے اسلام کے دین ہونے اور محمد کے نبی ہونے پر راضی ہوں
صلی الله علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم
✍️ #سیدمہتاب_عالم
