عشقِ_سیدِ_عالم 36
یہ بڑا تحقیقی کام ہے
ایک عربی محقق نے دقیق تحقیق سے ثابت کیا کہ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال 12 ربیع الاول کو نہیں ہوا بلکہ دو ربیع الاول کو ہے
کیونکہ یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کا خطبہ جمعہ کے دن دیا تھا
اور اس پر بھی سب کا اتفاق ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال پیر کے دن ہوا تھا
“””اب ذی الحجہ کا ماہ تیس کا بناؤ یا انتیس کا محرم کا ماہ تیس کا بناؤ یا انتیس کا پیر کو وصال نہیں ثابت ہوتا”””
اس نقشے میں تمام احتمالات کا رد کیا اور دو کو وصال باکمال ثابت کیا ہے
آپ ذی الحجہ محرم صفر میں سے جس ماہ کو چاہیں تیس یا انتیس کا بنا لیں 12 ربیع الاول بروز پیر حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ثابت نہیں کر سکتے
یاد رکھیں حجۃ الوداع جمعہ کو اور وصال پاک پیر کو ہے اس پر امت کا اتفاق ہے
اس لحاظ سے مہینوں کے دنوں میں کمی بیشی کر کے دیکھ لیں پیر کے دن 12 ربیع الاول بنتی ہی نہیں ہے
یہ صرف شیطانی وار ہے جو میلاد منانے سے روکنے کے لیئے ہے
اور جن علماء نے 12 وفات کہی ان کو غلطی لگی ہے
گرتے ہیں شہسوار ہی میدانِ جنگ میں
وہ طفل کیا گرے جو گھٹنوں کے بل چلے
اور علماء کرام نے میلاد روکنے کے لیئے 12 کو وفات نہیں بتائی جبکہ شریر لوگ روکنے کی دلیل دیتے ہیں
نہ 12 کو مناتے سوگ مناتے ہیں نہ میلاد مناتے ہیں بس شر پھیلاتے ہیں
ہم حضور کی آمد کی خوشیاں منائیں گے خواہ کسی کا دل چِر جائے یا کوئی ہمارا دل چیر دے ہم اپنے کریم کی آمد پر خوشی منائیں گے
سیدمہتاب_عالم# ✍️

