فقہِ_رضا 1
کافر کو کافر کہنے کی چند صورتیں ہیں
اولا یہ بات ذہن میں رکھیں کہ
اللہ رب العزت نے کافر کو کافر کہنے کا حکم دیا ھے قل یا ایھا الکافرون
(1) ہاں کافر ذمی کہ سلطنت اسلام میں مطیع الاسلام ہو کر رہتا ہے اُسے کافر کہ کر پکارنا منع ہے اگر اسے ناگوار ہو
در مختار میں یہودی یا مجوسی کو اے کافر کہنے والا گناہ قرار دیا گیا ہے
فتاوی_رضویہ
(2) یونہی غیر سلطنتِ اسلام میں جبکہ کافر کو او کافر کہنے پر مقدمہ چلتا ہو,
فتاوی_رضویہ
اس صورت میں بھی کافر کو کھلم کھلا کافر کہنا گناہ ہے
مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ کافر کو کافر نہ جانے
یہ خود کفر ہے
فتاوی_رضویہ
کافر کو کافر جاننا ماننا ایمان کا حصہ ہے
(3) کسی صحیح شرعی مجبوری کی وجہ سے کافر نہ کہنے میں حرج نہیں ہے
(4) اگر اپنی ذاتی مصلحت کی وجہ سے کافر نہیں کہتا تو ضرور گناہ گار ہے اگرچہ کافر جانتا ہو اور کافر نہ کہنا معیوب جانتا ہو
فتاوی_رضویہ
(5) اور اگر کافر کو کافر کہنا معیوب و خلاف تہذیب جانتا ہے تو قرآن عظیم کو عیب لگاتا ہے اور قرآن کریم کو عیب لگانا کفر ہے
فتاوی_رضویہ جلد 21 صفحہ 285
کیونکہ قرآن کریم میں کافر کو کافر ہی کہا گیا ہے
شریعت مطہرہ نے جزیہ دیکر رہنے والوں کا بھی لحاظ کیا ہے کہ ان کی جان و مال و عزت پر حرف نہ آئے اور وہ مسلمانوں کے اخلاق حسنہ دیکھ کر اسلام کی طرف مائل ہوں
تو مسلمانوں مؤمنوں کا کتنا لحاظ ہوگا غور کریں
✍️ #سیدمہتاب_عالم
